’مجھے اپنی قسمت پر یقین نہیں آتا‘

رائے سیبی اینٹوزاخے تصویر کے کاپی رائٹ cricket south africa

'میرے علاقے میں آج بھی لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ کرکٹ سیاہ فام کا نہیں بلکہ صرف سفید فام کا کھیل ہے اور وہی اس میں آگے بڑھ سکتے ہیں اسی لیے ہمارے ہاں آج بھی کرکٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔'

یہ کہنا ہے جنوبی افریقہ کی سپنر رائے سیبی اینٹوزاخے کا جو پہلی بار ویمن ورلڈ کپ میں حصہ لے رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا نسلی امتیاز کے مسائل کے علاوہ بتایا کہ والدین لڑکیوں کے زیادہ دیر گھر سے باہر رہنے پر بھی خوش نہیں ہوتے اس لیے لڑکیاں کرکٹ کی جانب نہیں آتیں کیونکہ کبھی کبھی رات دن پریکٹس کرنا پڑتی ہے۔

'سخت مقابلوں سے ویمن کرکٹ میں دلچسپی بڑھے گی'

جب ٹیم کے لیے منتخب ہوئی تو یقین نہیں آیا: نشرح سندھو

20 سالہ رائے سیبی اینٹوزاخے جنوبی افریقہ میں جوہانسبرگ کے ایک گاؤں الیگزینڈریہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہاں کی آبادی ایک اندازے کے مطابق تقریباً دس ہزار ہے۔ اس گاؤں سے وہ انٹرنشینل سطح پر کرکٹ کھیلنے والی پہلی فرد ہیں۔ اس ورلڈ کپ سے پہلے انھوں نے صرف پانچ میچ کھیل رکھے ہیں۔

20 سالہ رائے سیبی اینٹوزاخے کہتی ہیں 'میں جہاں رہتی ہوں وہ منشیات، شراب اور خواتین پر تشدد کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ میرے لیے بہت مشکل تھا کہ اس ماحول سے متاثر نہ ہوں اور کرکٹ جاری رکھوں۔ وہاں پر کرکٹ کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ میں نے چھ برس کی عمر سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا۔ فٹبال بھی کھیلا مگر پھر کرکٹ کی جانب پوری توجہ دی۔ مجھے لڑکوں کے ساتھ کھیلنا پڑتا تھا تاکہ میں اپنے شوق کو جاری رکھ سکوں۔ آج بھی ہمارے علاقے میں لڑکیوں کے لیے کرکٹ کھیلنے کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔'

17 برس کی عمر میں غلط دوستوں کی وجہ سے قوائد و ضوابط کی پاسداری نہ کرنے پر ان کے کرکٹ کھیلنے پر تین ماہ کی پابندی عائد کر دی گی۔ مگر ان تین ماہ نے انھیں احساس دلایا کہ وہ کرکٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔

انھوں نے بتایا 'اس وقت مجھے زندگی سے نفرت ہو گی۔ مجھے معلوم ہوا کہ میں کرکٹ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوں۔ جب مجھے ورلڈ کپ کے سکواڈ میں شمولیت کے لیے کال آئی تو میں خوشی سے رو پڑی۔ میری ماں کو لگا کہ شاید میں مذاق کر رہی ہوں کیونکہ ہمیں بالکل امید نہیں تھی کہ ایک دن میں یہاں تک پہنچ سکوں گی۔'

رائے سیبی پانچ بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ انھوں نے کہا میری والدہ اور نانی نے دن رات محنت کی اور یہ کوشش کی کہ ہم کبھی بھی بھوکے نہ سوئیں۔ ہمارے لیے اتنی تکالیف سہنے کے بعد بھی میری والدہ مجھے کہتی ہیں کہ میرے پیسے میرے ہیں میں جہاں چاہوں انھیں خرچ کروں۔

وہ اپنے علاقے میں لڑکیوں کی کرکٹ کوچ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں 'میری کوشش ہے کہ اپنے علاقے کی لڑکیوں کو کرکٹ میں لا سکوں۔ میں چاہتی ہوں وہ بھی آگے آئیں۔ وہ مجھے اپنا رول مڈل سمجھتی ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا 'میرے لیے ان کے جذبات سمجھنا اس لیے بھی آسان ہے کیونکہ میں خود اس دور سے گزری ہوں۔ یہ میرا خواب تھا کہ میں موجودہ ٹیم کے ساتھ کھیل سکوں۔ میں ہمیشہ ان کے ساتھ ڈریسنگ روم میں ہونا چاہتی تھی اور آج جب میں ان کے ہمراہ ہوتی ہوں تو مجھے خوشی بھی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ان سے بات کرنے سے ڈرتی ہوں۔ آپ اپنے رول ماڈلز کے سامنے بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ مجھے اپنی قسمت پر یقین نہیں آتا۔ میں ابھی بھی سب سے زیادہ بات نہیں کر پاتی لیکن وہ میرے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتی ہیں۔'

وہ چاہتی ہیں کہ وہ مزید دس سال کرکٹ کھیلیں جس کے بعد وہ مکمل کوچنگ پر توجہ دینا چاہتی ہیں کیونکہ اس سے انہیں تسکین ملتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں