سپاٹ فکسنگ سکینڈل: شرجیل اور خالد لطیف کی سماعت مکمل، فیصلہ تیس دن میں

شرجیل خان، خالد لطیف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تفضل حیدر رضوی نے کہا کہ دونوں کرکٹرز مبینہ طور پر 80 سے 90 فیصد یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ مشکوک فرد سے ملے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کے کیس کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور اب فریقین کو صرف تحریری دلائل داخل کرنے ہیں جس کے بعد ٹریبونل کے پاس فیصلہ سنانے کے لیے تیس دن کا وقت ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا تین رکنی ٹریبونل پاکستان سپر لیگ کے دوران سامنے آنے والے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی سماعت کررہا ہے۔ اس ٹریبونل کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ ) اصغر حیدر ہیں جبکہ اراکین میں لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا اور وسیم باری شامل ہیں۔

تفضل حیدر رضوی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کرکٹرز مبینہ طور پر 80 سے 90 فیصد یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ مشکوک فرد سے ملے ہیں وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ اس ملاقات میں فکسنگ کی بات ہوئی۔

تفضل حیدر رضوی کے مطابق دونوں کھلاڑی یہ بھی مانتے ہیں کہ اس ملاقات میں پیسوں کی بھی بات ہوئی اور پیشکش کی بات بھی ہوئی۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے ان تمام باتوں کو رپورٹ نہیں کیا۔

تفضل حیدر رضوی نے خالد لطیف کے وکیل کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے کے بارے میں کہا کہ عدالت یہ ضرور دیکھتی ہے کہ کوئی ناانصافی تو نہیں ہوئی۔ خالد لطیف کے وکیل کو یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ وہ دو بار عدالت سے رجوع کرچکے ہیں لیکن ان کی رٹ اور پھر نظرثانی کی اپیل خارج ہو چکی ہے۔

دوسری جانب کرکٹر شاہ زیب حسن کے وکیل ٹریبونل سے استدعا کی ہے کہ انھیں کرکٹرز محمد عرفان، عمر امین اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے انٹی کرپشن یونٹ کے کرنل اعظم سے جرح کرنے کی اجازت دی جائے۔

شاہ زیب حسن کے معاملے کی سماعت 24 جولائی تک ملتوی کردی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں