آسٹریلیا کو شکست، انڈیا ویمن ورلڈکپ کے فائنل میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانیہ میں جاری آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انڈیا نے آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔

اتوار کو کھیلے جانے والے آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کے فائنل میں اب انڈیا کا مقابلہ انگلینڈ کی ٹیم سے ہوگا۔

ڈربی میں کھیلے جانے والے دوسرے سیمی فائنل میچ میں انڈیا نے آسٹریلیا کو 36 رنز سے شکست دی۔

انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ہرمنپریت کور کی شاندار ناقابل شکست 171 کی اننگز کی بدولت مقررہ 42 اووروں میں 281 رنز بنائے۔

ہرمنپریت کور کی اننگز میں سات چھکے اور 20 چوکے شامل تھے۔ ان کی اس عمدہ اننگز پر انھیں میچ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

جواب میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 41ویں اوور میں 245 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔

آسٹریلیا کی جانب سے بلیک ویل نے 90 اور ویلانی نے 75 رنز کی اننگز تو کھیلی تاہم وہ اپنی ٹیم کو جیت سے ہمکنار نہ کروا سکیں۔

دیپتی شرما تین، جھلن گوسوامی اور شکھا پانڈے دو ، دو وکٹیں لر کے انڈیا کی طرف سے نمایاں بولر رہیں۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ انڈیا کی ویمن ٹیم کرکٹ کے عالمی کپ کے فائنل میں پہنچی ہے۔ اس سے قبل 2005 کے فائنل میں آسٹریلیا نے انڈیا کو 98 رنز سے شکست دی تھی۔

گروپ میچز میں آسٹریلیا نے انڈیا کو شکست دی جس کی وجہ سے اسے نفستاتی برتری حاصل تھی جبکہ وہ ٹورنامینٹ میں فیورٹ ٹیم بھی قرار دی جا رہی تھی۔

بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی سے بات کرتے ہرمنپریت کور نے کہا 'میں بیٹینگ کرتے ہوئے ہی سوچ رہی تھی کہ رنز نہیں رکنے چاہیے۔ ایک وکٹ گرے یا دو مجھے رنز بناتے رہنا ہے۔ میری طرف آنے والی ہر بال کو میں روزدار طریقے سے ہٹ کرنا چاہتی تھی۔ میں دباؤ کا شکار نہیں ہونا چاہتی تھی اس لیے صرف بال پر دھیان دے رہی تھی۔'

28 سالہ رمنپریت کور وہ پہلی انڈین کھلاڑی ہیں جنھیں بین الاقوامی لیگز نے اپنی ٹیم کے لیے چنا ہے۔ کور ابھی 98 رنز پر کھیل رہی تھیں جب وہ بھاگ کر دوسرا رن بنانا چاہتی تھیں مگر ساتھی کھلاڑی دیپتی شرما تیار نہیں نظر آئیں لیکن دو رنز مکمل ہونے کے بعد کور نے غصے میں آکر اپنے دستانے اور بلا زمین پر پھینک دیے اور دیپتی پر برس پڑیں مگر کچھ لمحوں بعد ہی انھیں گلے لگا لیا۔

اس سلسلے میں انھوں نے کہا 'اس وقت ہماری اننگز ایک اہم موڑ پر تھی، میں اپنی اور دیپتی دونوں کی وکٹیں نہیں کھونا چاہتی تھی کیونکہ اس سے دوسری ٹیم حاوی ہو جاتی ہے۔ دو رنز بڑی آسانی سے بنتے تھے مگر دیپتی کو شک ہو رہا تھا اس لیے مجھے غصہ آگیا۔ خیر دوسرا رن مکمل کرنے کے بعد میں نے اس سے معافی مانگی۔'

اسی بارے میں