ویمن کرکٹ ورلڈ کپ: اب تک کے مقبول ترین فائنل میں دلچسپ ترین مقابلہ

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’یە جیت ہمیں مشکل سے ملی ہے۔ بهارت کو جیتنےکے لیے دس رنز چاہیے تهے اور جین گن نے کیچ چهوڑا تو مجهے لگا ورلڈ کپ کی ٹرافی ہاتھ سے نکل گئی ہے مگر ہماری بہترین بولنگ ہمیں میچ میں واپس لے آئی۔ انیا شربسول نے اس وقت وکٹس لیں جب ان کی سب سے زیادە ضرورت تهی۔‘

یە کہنا تھا ویمن ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم انگلینڈ کی کپتان ہیتھر نائٹ کا جن کی ٹیم نے انگلینڈ کو چوتهی مرتبہ چیمپیئن بنایا ہے۔ لارڈر میں ہونے والے فائنل میچ میں انگلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے میں انڈیا کو نو رنز سے شکست دی۔ لارڈر میں ہونے والے فائنل میچ میں انگلینڈ نے انڈیا کو 229 کا ٹارکٹ دیا۔ انڈین بولر جولان گوسوامی نے بہترین بولنگ کا مظاہرە کرتے ہوئے 30 رنز دے کر تین وکٹس حاصل کیں جبکہ تین میڈن اوور دیے۔

جواب میں انڈین ٹیم 219 رنز ہی بناسکی۔ ایک وقت میں انڈیا تین وکٹوں کے نقصان پر 191 رنز پر تها جس سے انگلینڈ کی ہار نظر آرہی تهی مگر تجربە کار بلے بازوں کے آوٹ ہونے کے بعد باقی بلے باز انگلینڈ کی فاسٹ بولر آینا شربسول کی تاب نە لا سکیں اور یکے بعد دیگرے وکٹس گرنا شروع ہو گئیں۔ انڈیا کی اٹهائیس رنز پر سات وکٹیں آگے پیچے گری جو اس کی شکست کا سبب بنی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انگلینڈ کی فاسٹ بولر نے 46 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں جبکە ایلیکس ہارٹلی نے دو وکٹس حاصل کیں۔

اس سلسلے میں آینا شربسول نے کہا ’ایک دلچسپ مقابلە رہا۔ ایک وقت پر ہمیں لگا ہم ہار چکے ہیں مگر ہماری ٹیم کی یہی خوبصورتی ہے کہ ہم کبهی ہمت نہیں ہارتے۔'

ہیتھر نائٹ کا کہنا تها کہ ' ذہنی طور پر انگلینڈ کو برتری حاصل رہی۔ دباؤ میں کهیلنا آسان نہیں ہوتا اور میری ٹیم نے آخر میں آکر میچ اپنے ہاتھ میں کر لیا۔‘

اس ٹورنامنٹ میں جہاں کئی ریکارڈ بنے وہیں نئی تاریخ بهی رقم ہوئی۔ ویمن ورلڈ کپ کی تاریح میں کبهی فائنل دیکهنے کے لیے سڈیم فل نہیں تها مگر اس میچ کی ساری ٹکٹس پہلے ہی فروخت ہو چکی تهیں۔ تقریبا پیک سٹیڈیم میں اتنی بڑی تعداد میں شائقین کے سامنے کهیلنے کا ان خاتون کرکٹرز کا بهی پہلا تجربە ہے۔ میچ کے آغاز میں ایک سو پانچ سالە ایلین ایش نے لارڈز کی گهنٹی بجا کر پہلی اننگز کا آغاز کیا۔ انھوں نے 1973 کا اپنا ویمن ٹیم کا کوٹ پہن رکها تها۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آنجہانی ریچل فلنٹ کے بیٹے بین فلنٹ نے دوسری اننگز کے آغاز کا اعلان کیا۔ ریچل فلنٹ کی کوششوں سے ہی 1973 میں ویمن ورلڈکپ کا آغاز ہوا تها۔

انڈین کپتان میتهالی راج کا کہنا تھا ’مجهے اپنی ٹیم پر فخر ہے۔ اس ٹیم نے انڈیا میں لڑکیوں کی آئیندە نسل کے لیے ایک پلیٹ فارم سیٹ کر دیا ہے۔ انھوں نے لڑکیوں کے لیے کرکٹ کو پیشە بنانے کی کئی راہیں کهول دیں ەیں۔ اس لیے پوری ٹیم کو خود پر فخر ہوا چاہیئے۔‘

میچ کے بارے میں میتهالی راج نے کہا ’ہماری آخری بلے بازوں اتنے بڑے پلیٹ فارم کا دباؤ نہیں لے سکیں۔ ان کا تجربە کم ہے اس لیے ان کے لیے دس رنز بنانا بهی مشکل ہو گیا اور ٹیم دباؤ میں آگی۔‘

انڈین ٹیم توقع کے برعکس آسٹریلیا کو ہرا کر سیمی فائنل میں پہنچی تهیں۔ متهالی راج نے کہا ’جب شیکها پانڈے رن آوٹ ہوئی تو تب مجهے اپنی ہار کا یقین ہو گیا۔ یە میرا اور جولان گوسوامی کا آخری ورلڈ کپ ہے۔ ہم جیتنا چاہتے تهے مگر انگلینڈ کی بولنگ اور فیلڈینگ بہترین رہی۔ مجهے میری ٹیم پر فخر ہے کە فائنل کهیلنے کا تجربە نە ہونے کے باوجود ہم نے انگلینڈ کو آسانی سے جیتنے نہیں دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس ورلڈ کپ کو ماہرین ویمن کرکٹ کے لیے ٹرننگ پوائنٹ قرار دے رہے ہیں۔ یە پہلا موقع تها جب آئی سی سی نے میچز ٹی وی پر دیکهائے جبکە ڈی ایس آر کا بهی استعمال کیا گیا۔

اس سلسلے میں انگلینڈ کی کپتان کا کہنا تھا ’لڑکیوں کے لیے کرکٹ میں آنے کے لیے اس سے بہتر دور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس ٹورنامنٹ میں بہترین کرکٹ کا مظاہرە کیا گیا۔ وە ٹیمز جو کمرزو ہوتی تهیں انھوں نے مضبوط ٹیمز کو چنے چبوا دیے۔ اس ٹورنامنٹ کو دنیا بهر میں جتنی پذیرائی ملی اس سے پہلے نہیں تهی۔ اب جو لڑکی بلا اٹهانا چاہے اس کے لیے کهیلنا مشکل نہ ہوگا۔‘