’وقت آ گیا ہے کہ کرکٹرز واپس میدان میں آ جائیں‘

آسٹریلین کھلاڑی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسٹریلین کھلاڑیوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ بورڈ دو عشرے پرانا معاوضوں کا نظام ترک کرنا چاہتا ہے

آسٹریلیا کے کرکٹ کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ 'وقت آ گیا ہے کہ وہ واپس میدان میں آ جائیں،' اور طویل تنازع ختم کر دیں جس کی وجہ سے 230 کھلاڑی بےروزگار ہو گئے ہیں۔

آسٹریلیا کی اے ٹیم کو جنوبی افریقہ جانا تھا لیکن کھلاڑیوں اور بورڈ کے درمیان معاوضوں کے معاملے پر اختلافات کی وجہ سے یہ دورہ منسوخ کرنا پڑا۔

کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سدرلینڈ نے کہا کہ ’اگر یہ معاملہ حل نہ ہوا تو ہم ثالثی کی تجویز پیش کریں گے۔ ہم ہر فیصلہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ کرکٹ کی اصطلاح میں ہم امپائر کا فیصلہ قبول کر لیں گے۔‘

کھلاڑیوں کی ایسوسی ایشن نے جواب میں کہا کہ وہ مذاکرات کرتی رہے گی۔ 'کرکٹ آسٹریلیا نے کھلاڑیوں کھو دیے ہیں اور اب کھلاڑیوں کو بےروزگار کرنے، طویل عرصے تک مالیاتی شفافیت کے بغیر کام کرنے اور تین ماہ تک ثالثی کو نظرانداز کرنے کے بعد اب کرکٹ آسٹریلیا کو جلدی پڑی ہے۔'

کرکٹ آسٹریلیا نے ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کردہ ایک دستاویز کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ 'گراس روٹ سطح پر کھیل کے لیے نقصان دہ ہے۔'

یہ تنازع اس وقت اٹھ کھڑا ہوا جب آسٹریلین بورڈ نے کرکٹ کھلاڑیوں کے لیے معاوضے کا نیا نظام متعارف کروانے کی کوشش کی۔ اس سے قبل کرکٹ کھلاڑیوں کو بورڈ کی آمدن کا ایک حصہ ملتا تھا۔

کھلاڑیوں کی ایسوسی ایشن نے اس منصوبے کو 'سخت مایوس کن' قرار دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں