’فٹبال کی ترقی حکومتی مداخلت ختم کیے بغیر ممکن نہیں‘

محمد عادل تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Adil

پاکستانی فٹبالر محمد عادل کا کہنا ہے کہ ملک میں فٹبال کا کھیل حکومتی مداخلت ختم کیے بغیر ترقی نہیں کرسکتا ہے۔ ان حالات میں سب سے زیادہ نقصان کھلاڑیوں کا ہو رہا ہے۔

انھوں نے آسٹریلیا سے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی فٹبال اس وقت جمود کا شکار ہے جس کی براہ راست ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے جس نے فٹبال کے معاملات میں مداخلت کی اور اب یہ معاملہ عدالت میں ہے۔

محمد عادل کے مطابق 'آج صورت حال یہ ہے کہ پاکستان بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت نہیں کر رہا اور پاکستانی کھلاڑی ملک سے باہر کھیلنے کے مواقعوں سے محروم ہیں۔'

رونالڈینو، گگز سمیت آٹھ بین الاقوامی فٹبالرز پاکستان میں

پاکستان میں فٹبال سرکاری سرپرستی سے محروم؟

محمد عادل اس وقت آسٹریلیا میں ہاکس بری سٹی فٹبال کلب کی جانب سے کھیل رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل کرغستان اور مالٹا میں پروفیشنل لیگ کھیل چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 'آج بھی ملک میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور کئی ایسے کھلاڑی ہیں جو ملک سے باہر پروفیشنل لیگ کھیل سکتے ہیں لیکن انھیں اس کا موقع نہیں مل رہا ہے، جب غیر ملکی کلبز انھیں کھیلتا دیکھیں گے تب ہی وہ انھیں ٹرائلز کے لیے بلائیں گے۔ غیر ملکی کلبز کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان نہ صرف انٹرنیشنل فٹبال نہیں کھیل رہا ہے بلکہ وہاں ڈومیسٹک لیگ بھی نہیں ہو رہی ہے۔‘

پاکستانی فٹبالر کے مطاقب کوئی بھی کلب کھلاڑی سے معاہدہ کرتے وقت یہ ضرور پوچھتا ہے کہ اس نے آخری بار اپنے ملک کی جانب سے انٹرنیشنل میچ کب کھیلا ہے؟

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے آخری بار سنہ 2015 میں انٹرنیشنل فٹبال میچ کھیلا تھا اس کے بعد سے پاکستانی کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے منتظر ہیں۔ بین الاقوامی فٹبال نہ کھیلنے کی وجہ سے آج پاکستان کی عالمی رینکنگ 200 تک پہنچ چکی ہے۔

محمد عادل نے کہا کہ وہ خود کو اس لیے خوش قسمت تصور کرتے ہیں کہ انھیں بیرون ملک پروفیشنل لیگ کھیلنے کا موقع مل گیا۔انھیں کرغستان میں ڈورڈئی کی جانب سے کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس کے بعد وہ مالٹا میں کھیلے اور اس وقت وہ آسٹریلیا میں کھیل رہے ہیں۔

محمد عادل کو ویزے کی تاخیر کی وجہ سے زیادہ میچز کھیلنے کے لیے نہیں ملے تاہم انھیں امید ہے کہ آئندہ سال وہ زیادہ میچ کھیلنے میں کامیاب ہوں گے۔

متعلقہ عنوانات