’خواتین کرکٹ کا مستقبل نوجوان کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ویمنز سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اور سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کرکٹ کا مستقبل نوجوان کھلاڑیوں سے وابستہ ہے اور سینیئر کھلاڑیوں کو یہ علم ہوچکا ہے کہ اب ان کے پاس زیادہ وقت نہیں رہا۔

محمد الیاس نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی مایوس کن ضرور رہی لیکن یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ چار میچز ایسے بھی تھے جو پاکستانی ٹیم جیت سکتی تھی لیکن فنشنگ نہ ہونے کی وجہ سے اسے کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

٭ ویمن کرکٹ ورلڈ کپ کا مقبول ترین فائنل

٭ ثنا میر کی 100 وکٹیں اور بسمہ کے 2000 رنز

٭ ’لڑکوں کے ساتھ ہی پریکٹس کرنا پڑتی تھی‘

محمد الیاس کا کہنا ہے کہ سلیکشن کمیٹی اگر سینیئر کھلاڑیوں کی جگہ ورلڈ کپ میں نئی کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرتی تو سلیکشن کمیٹی پر الزام آجانا تھا اسی لیے سینیئر کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا۔

محمد الیاس نے کہا کہ ٹیم میں شامل نئی کھلاڑیوں کی کارکردگی اچھی رہی۔ پاکستان اے ٹیم کے ساتھ انگلینڈ کا دورہ کرنے والی چار پانچ نئی کھلاڑی آنے والے دنوں میں پاکستان کے لیے کارآمد ثابت ہوں گی انھیں ورلڈ کپ میں شامل کیا جاسکتا تھا لیکن پھر یہ سوچا گیا کہ انہیں مزید تجربے کی ضرورت ہے۔

محمد الیاس نے کہا کہ سینیئر کھلاڑیوں کو علم ہوچکا ہے کہ اب ان کے پاس زیادہ وقت نہیں رہا۔

کپتان ثنامیر کے مستقبل کے بارے میں سوال پر چیف سلیکٹر نے کہا کہ ورلڈ کپ سے قبل ثنا میر کا بیان آچکا تھا کہ وہ عالمی کپ کے بعد ریٹائر ہوجائیں گی۔ انھیں کپتان برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ بورڈ کرے گا۔

محمد الیاس نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کی کوچنگ اور ٹریننگ کا مناسب پروگرام مرتب دیا جائے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ گلگت سے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئی ہیں جبکہ پہلے کھلاڑی ڈھونڈنی پڑتی تھیں۔

اسی بارے میں