ایرانی فٹبالرز اور ’مٹھی بھر گندے ڈالر‘

فٹبال تصویر کے کاپی رائٹ EPA

دو ایرانی فٹبالروں کو ان کے ملک ایران میں اس وقت تعریف اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انھوں نے اپنے یونانی فٹبال کلب کی جانب سے اسرائیلی کلب مکابی تل ابیب کے حلاف میچ کھیلا۔

یورپا لیگ کے تیسرے کوالیفائنگ راؤنڈ میں پینیئنائز آف ایتھنز اور مکابی کے درمیان کھیلا گیا یہ میچ دونوں ہی ٹیموں کے مداح یاد رکھنا نہیں چاہیں گے تاہم اس کے باوجود گراؤنڈ پر ایرانی فٹبالرز مسعود شوجاعی اور احسن ہجصافی کی موجودگی ایرانیوں کی نگاہ سے نہ بچ سکی۔

خیال رہے کہ ایران چونکہ اسرائیل کو ریاست تسلیم نہیں کرتا اس لیے وہ اپنے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں اسرائیلی کھلاڑیوں کے مد مقابل آنے کی اجازت نہیں دیتا۔

گذشتہ سال ریو اولمپکس میں بھی ایرانی ایتھلیٹ علی رضا خوجستحے جوڈو کے مقابلوں سے ’ذاتی وجوہات‘ کی بنا پر دستبردار ہو گئے تھے لیکن ان کے اس فیصلے کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ اسرائیلی کھلاڑی کے خلاف ممکنہ میچ کی وجہ سے کیا گیا۔

بعض سوشل میڈیا صارفین نے ان دونوں فٹبالرز کی جانب سے پابندی کی پرواہ نہ کرنے پر تعریف کی ہے۔ ان دونوں فٹبالرز نے میچ کے دوران کلائی پر سبز، سفید اور سرخ رنگ کے بینڈز بھی پہن رکھے تھے جس کا مقصد ایرانی جھنڈے کو ظاہر کرنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران اپنے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں اسرائیلی کھلاڑیوں کے مد مقابل آنے کی اجازت نہیں دیتا

ٹوئٹر پر ایک صارف نے کہا کہ ’آخر قابل کھلاڑیوں کو ایسی پابندیوں کی وجہ سے کیوں ضائع کیا جا رہا ہے؟ اس روایت کو توڑنا ایک بڑی پیش رفت ہے۔ کسی بھی قیمت پر ان کا ساتھ دیں۔‘

ایک اور صارف نے کہا کہ ’(سخت گیر ایرانیوں) ’جنھیں تشویش ہے‘ اب ان کھلاڑیوں کی یہ کہہ کر بے عزتی کرنا شروع کر دیں گے کہ انھوں اسلام کو خطرے میں ڈالا۔‘

’مٹھی بھر گندے ڈالر‘

لیکن تعریف کرنے والوں کی تعداد کم ہے اور زیادہ تر افراد کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں کو یہ میچ چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ ان میں سے ایک بھی کھلاڑی اس سکواڈ کا حصہ نہیں تھا جو گذشتہ ہفتے پہلا مرحلہ کھیلنے کے لیے تل ابیب گیا تھا۔

ایرانی سخت گیر نیوز ایجنسی راجا نیوز نے اپنے آفیشل ٹیلی گرام چینل پر شائع کیا کہ ’شوجاعی اور ہجصافی نے پہلے سے طے پیشہ وارانہ پابندیوں کے تحت اپنی قومی اور اخلاقی ذمہ داری کا انکار کیا۔‘

جبکہ ایک اور صارف کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ’احسن اور مسعود کو چند مٹھی بھر گندے ڈالروں کے لیے ان خون پینے والوں کو تسلیم کرنے پر شرم آنی چاہیے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں