پی سی بی چیئرمین شہریار خان مدت پوری ہونے پر سبکدوش

پی سی بی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اپنے عہدے پر تین سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد سبکدوش ہوگئے ہیں۔

شہریارخان نے 18 اگست 2014 کو دوسری مرتبہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تھا۔

اس سے قبل وہ 2003 سے 2006 تک پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہے تھے تاہم اس وقت وہ اپنے عہدے کی مدت پوری نہیں کرسکے تھے اور انہیں اوول ٹیسٹ کے تنازعے کی وجہ سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

83 سالہ شہریار خان کا شمار پاکستان کی تاریخ کے تجربہ کار سفارت کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ فرانس، اردن اور برطانیہ میں سفیر اور سیکریٹری خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریار کا پہلا دور کئی اعتبار سے کامیاب رہا جن میں ان کی سب سے اہم کامیابی پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی تھی

انہوں نے روانڈا میں اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری کی خدمات بھی انجام دیں۔

شہریارخان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنے دونوں ادوار میں کئی اہم اقدامات کیے۔ تاہم ان کا پہلا دور کئی اعتبار سے کامیاب رہا جن میں ان کی سب سے اہم کامیابی پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی تھی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے سابق صدور راج سنگھ ڈونگرپور اور جگ موہن ڈالمیا پاک بھارت کرکٹ تعلقات کے ضمن میں شہریارخان کی مدبرانہ صلاحیتوں کے زبردست معترف تھے۔

شہریارخان نے اپنے دوسرے دور میں بھی پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنی حکومت کی طرف سے کھیلنے کی اجازت نہ دینے کا جواز پیش کرتے ہوئے ان کی اس کوشش کوکامیاب نہیں ہونے دیا۔

شہریارخان نے انٹرنیشنل کرکٹ کی پاکستان میں واپسی کے سلسلے میں بھی بہت کوشش کی لیکن ملک میں دہشت گردی کے واقعات ان کی کوششوں کی راہ میں آتے رہے اور سوائے زمبابوے کے کوئی دوسری ٹیم پاکستان آکر کھیلنے کے لیے تیار نہ ہوسکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریارخان کو بعض معاملات پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی سے اختلاف رائے کا سامنا رہا

شہریارخان کی ایک اور قابل ذکر کامیابی بگ تھری کا خاتمہ ہے۔ جب انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ بگ تھری کی حمایت کرچکا تھا لیکن شہریارخان نے اسے پاکستانی کرکٹ کے مفادات کے منافی خیال کرتے ہوئے اس کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

شہریارخان اپنے پہلے دور میں باب وولمر اور دوسرے دور میں مکی آرتھر کی شکل میں غیرملکی کوچز پاکستان لائے ۔

شہریارخان اپنے پہلے دور میں فیصلے کرنے کے سلسلے میں مکمل خود مختار اور آزاد رہے تاہم دوسرے دور میں انہیں بعض معاملات پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی سے اختلاف رائے کا سامنا رہا۔

شہریارخان نجم سیٹھی ہی کی جگہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اس وقت منتحب ہوئے تھے جب نجم سیٹھی اور ذکا اشرف کے درمیان چیئرمین شپ کے حصول کی عدالتی جنگ جاری تھی۔

شہریارخان کی سبکدوشی کے بعد نجم سیٹھی دوبارہ چیئرمین بننے کے لیے فیورٹ ہیں۔ تاہم اس بار بھی ان کے انتخاب سے قبل ایک پٹیشن اسلام آْباد ہائی کورٹ میں دائر ہوچکی ہے ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں