پیٹرن ان چیف غیرسیاسی ہونا چاہیے: شہریارخان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہریارخان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین کی حیثیت سے تین سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد سبکدوش ہوگئے ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سبکدوش ہونے والے چیرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ ان کی ذاتی رائے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا پیٹرن ان چیف غیرسیاسی شخصیت کو ہونا چاہیے کیونکہ سیاسی لیڈر کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کس طرف رخ کر لیتے ہیں اور وہ اپنے لوگوں کا تقرر کرتے ہیں جو کرکٹ کے لیے اچھا نہیں ہے۔

یاد رہے کہ شہریارخان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین کی حیثیت سے تین سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد سبکدوش ہوگئے ہیں اور 9 اگست کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیرمین کا انتخاب عمل میں آئے گا۔

شہریارخان نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف پہلے صدر ہوا کرتے تھے بعد میں وزیراعظم پیٹرن ان چیف بن گئے تاہم اس تبدیلی سے انھیں اپنے فرائض انجام دینے میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف بھی تھے، خود کرکٹ کے شوقین تھے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے تھے تاہم ذاتی طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پیٹرن ان چیف کسی غیرسیاسی شخصیت کو ہی ہونا چاہیے۔

اس سوال پر کہ غیرسیاسی شخصیت یعنی صدر کا دوبارہ پیٹرن ان چیف ہونا کس طرح ممکن ہے، شہریارخان نے جواب دیا کہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ آئین میں تبدیلی کی جائے تو پیٹرن ان چیف بھی دوبارہ صدر مملکت بن جائیں گے لیکن آئین بدلنا بھی بڑی بات ہے۔

شہریارخان نے کہا کہ انہیں اپنے موجودہ دور کے مقابلے میں سابقہ دور میں فیصلے کرنے کے سلسلے میں زیادہ آسانی تھی کیونکہ اس وقت کلچر مختلف تھا جبکہ موجودہ دور میں نئے آئین کے تحت وہ بورڈ آف گورنرز اور مختلف کمیٹیوں کی بات سننے کے پابند رہے۔

شہریارخان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ نجم سیٹھی کے ساتھ ان کے اختلافات رہے۔

انہوں نے کہا کہ نجم سیٹھی اور وہ ایک پیج پر تھے۔ ان کے مطابق بعض جگہ تھوڑا سا اختلاف ہوتا تھا اس سے زیادہ نہیں۔

شہریارخان نے کہا کہ ہم دونوں نے مل کر کام کیا۔ پاکستان سپر لیگ میں نجم سیٹھی آگے تھے جبکہ دوسری باتوں میں وہ (شہریارخان) آگے رہے۔ یہ درست نہیں کہ پالیسیوں پر دونوں میں اختلاف تھا، جو بھی تھوڑا بہت اختلاف ہوتا تھا مل کر سلجھا دیتے تھے۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تین سالہ دور سے مطمئن ہیں۔ وہ جب چیرمین بنے تھے اس وقت چیرمین شپ کا معاملہ عدالت میں تھا لیکن وہ جتنا عرصہ بھی بورڈ میں رہے اس دوران کرکٹ بورڈ میں استحکام رہا، تسلسل رہا بورڈ کی مالی پوزیشن بھی ٹھیک ہوگئی اور کوئی بھی بڑا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ انہیں بھارت سے دو طرفہ سیریز نہ ہونے کا افسوس ہے جس کے لیے انہوں نے ہرممکن کوشش کی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں