نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نجم شیٹھی 2013 عام انتخابات کے موقع پر پنجاب کے نگراں وزیراعلی کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں

نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔ انھوں نے شہریارخان کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا ہے جو اپنی تین سالہ مدت پوری کرنے کے بعد سبکدوش ہوگئے ہیں۔

69 سالہ نجم سیٹھی کو گذشتہ ماہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے عارف اعجاز کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ میں اپنے دو نمائندوں کے طور پر مقرر کیا تھا۔

نجم سیٹھی کے چیئرمین منتخب ہونے کے بعد عارف اعجاز بورڈ آف گورنرز کے رکن بن گئے ہیں۔ یہ جگہ شہریار خان کے جانے سے خالی ہوئی ہے۔

پیٹرن ان چیف غیرسیاسی ہونا چاہیے: شہریارخان

’کھلاڑیوں کے پُش اپس لگانے پر کوئی پابندی نہیں‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے تحت 10 رکنی بورڈ آف گورنرز میں ریجن اور اداروں کے چار چار اراکین شامل ہوتے ہیں جبکہ دو کا تقرر وزیراعظم کی جانب سے ہوتا ہے۔

نجم سیٹھی اس سے قبل بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رہ چکے ہیں لیکن ماضی میں انہیں ذ کا اشرف کے مقابلے میں عدالتی کارروائی کا سامنا رہا۔

مئی 2013 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ذ کا اشرف کی معطلی کے بعد جون میں نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا عبوری چیئرمین مقرر کیا گیا تھا لیکن اسی سال اکتوبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے نجم سیٹھی کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نجم شیٹھی 2013 عام انتخابات کے موقع پر پنجاب کے نگراں وزیراعلی کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں

اکتوبر 2013 میں ہی اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت کرکٹ بورڈ کے مقدمے کے پیش نظر نجم سیٹھی کی سربراہی میں پانچ رکنی ایڈہاک منیجمنٹ کمیٹی قائم کردی جس کے دیگر ارکان میں شہریارخان، ظہیر عباس، نوید اکرم چیمہ اور ہارون رشید شامل تھے۔

جنوری 2014 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکا اشرف کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا لیکن فروری میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے ذکا اشرف کو ان کے عہدے سے ہٹا کر پاکستان کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور گیارہ رکنی کمیٹی کے سپرد کر دی جس کے سربراہ نجم سیٹھی تھے۔

مئی 2014 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکا اشرف کو ایک بار پھر بحال کر دیا لیکن سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے نجم سیٹھی کی بحالی کا حکم سنا دیا۔

عدالتی جنگ کے اس طویل سلسلے کا ڈراپ سین اس طرح ہوا کہ نجم سیٹھی نے سپریم کورٹ کے سامنے اپنے بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے اگلے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور اگست 2014 میں شہریار خان پاکستان کرکٹ بورڈ کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوگئے جبکہ نجم سیٹھی نے ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین کی ذمہ داری سنبھال لی۔

گذشتہ تین سال کے دوران نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی طاقتور ترین شخصیت کے طور پر سامنے آئے اور کرکٹ بورڈ کے ہر اہم فیصلے میں ان کی مرضی شامل رہی۔

نجم سیٹھی پاکستان سپر لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے اس ایونٹ کا دو سال سے انعقاد کر رہے ہیں۔

نجم سیٹھی کا شمار ملک کے سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں میں ہوتا ہے۔

وہ 2013 کے عام انتخابات کے موقع پر پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں