’پاکستان سے سکواش کو کچھ نہیں ملا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’پاکستان سے سکواش کو کچھ نہیں ملا‘

سکواش کے سابق عالمی چیمپیئن جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ اس کھیل نے پاکستان کو کھیلوں کی دنیا میں جو رتبہ دلوایا اس کے بدلے میں اسے کچھ نہیں ملا۔

پاکستان کی آزادی کی 70ویں سالگرہ پر بی بی سی اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے دس بار برٹش اوپن جیتنے والے جہانگیر خان نے کہا کہ پاکستان میں سکواش پر کبھی بھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی چاہے وہ حکومت کی طرف سے ہو، منتظمین کی جانب سے ہو یا فیڈریشن کی طرف سے۔

جہانگیرخان ساڑھے پانچ سال تک بین الاقوامی سکواش مقابلوں میں ناقابل شکست رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان بننے کے صرف چار سال بعد ہی ہم اس کھیل میں عالمی چیمپیئن بن گئے تھے جبکہ دوسرے ممالک کو اس مقام تک پہنچنے میں طویل عرصہ لگا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے سکواش کی دنیا میں بلند مقام حاصل تو کر لیا لیکن اسے مزید استحکام دینے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔'

چھ بار ورلڈ چیمپیئن بننے والے جہانگیرخان کا کہنا ہے کہ ان سمیت جتنے بھی عالمی چیمپیئن بنے وہ اپنی مدد آپ کے تحت بنے البتہ بعد میں انھیں بحریہ، فضائیہ اور پی آئی اے کی طرف سے مدد ضرور ملی لیکن اکیڈمیوں کے ذریعے تربیت کا منظم پروگرام نہ پہلے تھا نہ آج موجود ہے۔

جہانگیر خان پاکستان سکواش فیڈریشن کو پاکستان ایئرفورس سے لے کر کسی دوسرے ادارے کو دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'اگر فیڈریشن ایئرفورس سے لے لی جاتی ہے تو پھر حکومت کو اس کھیل کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔پاکستان سپورٹس بورڈ اور حکومت سے جو مدد اس وقت مل رہی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ دس بیس لاکھ روپے سے فیڈریشن چلائی جا سکتی ہے تو یہ ناممکن ہے۔'

جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ سابق عالمی چیمپیئن کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنا اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا حکومت اور سکواش فیڈریشن کی ذمہ داری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rex Features
Image caption جہانگیرخان ساڑھے پانچ سال تک بین الاقوامی سکواش مقابلوں میں ناقابل شکست رہے

'کوئی بھی ورلڈ چیمپیئن اپنی فائل لے کر ِخود نہیں گھومے گا اور کہے گا کہ اس سے کام لے لیں۔ آج انگلینڈ، آسٹریلیا، فرانس اور مصر میں سابق ورلڈ چیمپیئنز کوچنگ اور ٹریننگ سے وابستہ ہیں تو انھیں یہ ذمہ داری ان کی حکومت اور فیڈریشن نے سونپ رکھی ہے اور وہ بڑی تعداد میں جونیئر کھلاڑی تیار کررہے ہیں۔'

جہانگیر خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں میں وہ جذبہ نہیں ہے جو بڑا کھلاڑی بننے کے لیے درکار ہوتا ہے۔

'ان کے پاس واضح سوچ نہیں ہے۔ وہ جس مقام پر ہیں اسی پر خوش ہیں، اسی پر سمجھوتہ کیے بیٹھے ہیں۔ سکواش میں شارٹ کٹ نہیں ہے ۔ یہ راتوں رات کامیابی حاصل کرنے والا کھیل نہیں ہے۔'

تاہم جہانگیر خان نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان میں سکواش کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔

'ملک میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں ان میں صرف محنت کی کمی ہے اگر وہ آج سے سخت محنت شروع کریں تو اگلے پانچ دس سال میں کوئی نہ کھلاڑی ورلڈ چیمپیئن بن سکتا ہے لیکن آج وہ جس طرح مطمئن ہو کر کھیل رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے ان کے لیے بلند مقام تک پہنچنا ممکن نہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں