اب وقت آگیا ہے کہ سری لنکا پاکستان کی مدد کرے: نجم سیٹھی

نجم سیٹھی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نجم سیٹھی نے کہا کہ ورلڈ الیون کے دورے سے ایک ʼ پاورفل سگنل ʽ جائے گا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ ورلڈ الیون کا دورۂ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی کامیابی کی بنیاد پر سری لنکن کرکٹ ٹیم بھی ایک یا دو ٹی 20 انٹرنیشنل کھیلنے پاکستان آئے گی۔

واضح رہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر سماتھی پالا نے گذشتہ دنوں ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرے۔

نجم سیٹھی نے منگل کو بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آئی سی سی کی سکیورٹی ٹیم آئندہ ایک دو روز میں پاکستان پہنچ رہی ہے جو ورلڈ الیون کے دورۂ پاکستان کے حفاظتی انتظامات کے سلسلے میں پنجاب کی پولیس کے ساتھ کام کرے گی۔ یہ سکیورٹی ٹیم ورلڈ الیون کے دورے تک پاکستان میں ہی رہے گی۔

لاہور میں سری لنکا،پاکستان کے ٹی 20 میچ کا امکان

نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب

پی سی بی چیئرمین شہریار خان مدت پوری ہونے پر سبکدوش

نجم سیٹھی نے کہا کہ ورلڈ الیون کو آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرنا ہے جس میں وہ لاہور میں اپنے چار روزہ قیام کے دوران تین ٹی 20 میچز کھیلے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے نزدیک ورلڈ الیون کے دورے کی کامیابی بڑی اہمیت رکھتی ہے‘۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ چاہتا ہے کہ غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان میں کھیلنے کی دعوت دی جائے اور سکیورٹی کی صورتحال ٹھیک کی جائے تاکہ آہستہ آہستہ انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھلنے شروع ہوں۔

انھوں نے کہا کہ پہلے قدم کے طور پر پاکستان سپر لیگ کا فائنل مشکل حالات کے باوجود کامیابی سے کرایا گیا۔ اس فائنل کے موقع پر آئی سی سی کے چھ یا سات سکیورٹی ماہرین لاہور آئے تھے اور انھوں نے خود سکیورٹی کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں ہونے والے حملے کے بعد سے منقطع ہے

نجم سیٹھی نے کہا کہ آئی سی سی کے ساتھ بات چیت کر کے ورلڈ الیون کو پاکستان لانا پاکستان کرکٹ بورڈ کا دوسرا اہم قدم ہے۔ ورلڈ الیون کے دورے سے قبل ایک انٹرنیشنل سکیورٹی کمپنی کی ٹیم پاکستان پہنچ رہی ہے جس میں متعدد ممالک کے ماہرین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فیکا (فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوی ایشن) کے نمائندے بھی پاکستان آرہے ہیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ فیکا کے نمائندوں کے پاکستان آنے اور سکیورٹی کلیئرنس رپورٹ دینے کے بعد سری لنکا کو سکیورٹی کے محض سرسری جائزے کی ضرورت رہے گی۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈ الیون کے دورے سے ایک ʼپاورفل سگنلʽ جائے گا اور اسی کی بنیاد پر سری لنکا نے پاکستان میں کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ سری لنکا کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ وہ بھی 30 سال تک دہشت گردی کا شکار رہے ہیں اور اس عرصے میں پاکستان نے ان کے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا اور پاکستانی ٹیم سری لنکا جاتی رہی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ وہ بھی پاکستان کی مدد کریں۔ لہذا ان سے یہی طے پایا ہے کہ ورلڈ الیون کے کامیاب دورے کے بعد سری لنکا کے ساتھ ایک یا دو ٹی 20 انٹرنیشنل میچز لاہور میں ہوں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں ہونے والے حملے کے بعد سے نہیں ہوئی ہے۔ اس دوران صرف زمبابوے کی کرکٹ ٹیم محدود اوورز کے میچز کھیلنے لاہور آچکی ہے تاہم ابھی تک کسی بڑی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں