کوچ پر نازیبا زبان استعمال کرنے کے الزام پر عمر اکمل کو نوٹس

عمر اکمل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمر اکمل کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی خود اعتمادی کے ہاتھوں بے بس ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹر عمراکمل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا ہے اور انھیں سات روز میں اپنا جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

٭ عمر اکمل کا مکی آرتھر پر نازیبا زبان استعمال کرنے کا الزام

پی سی بی نے عمراکمل کو اظہار وجوہ کا یہ نوٹس بدھ کے روز لاہور میں کی گئی پریس کانفرنس کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پر نازیبا بیان استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

گذشتہ روز عمراکمل نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ مکی آرتھر نے چیف سلیکٹر انضمام الحق اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ مشتاق احمد کی موجودگی میں ان سے نازیبا گفتگو کی تھی۔

تاہم مشتاق احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے وڈیو پیغام میں اس بات کی تردید کردی ہے کہ مکی آرتھر نے عمراکمل سے نازیبا گفتگو کی تھی۔

مکی آرتھر نے عمراکمل کا الزام سامنے آتے ہی اس کی فوراً تردید کردی تھی اور کہا تھا کہ انھوں نے عمراکمل کو ٹریننگ کرنے سے اس لیے روک دیا تھا کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ کے حامل کرکٹر نہیں ہیں اور انھوں نے عمراکمل سے کہا کہ وہ پہلے اپنی فٹنس پر توجہ دیں۔

عمراکمل کی جانب سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پر تازہ ترین الزام کی کڑیاں چیمپئنز ٹرافی سے قبل انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کے مختصر تربیتی کیمپ سے ملتی ہیں جس میں مکی آرتھر نے عمراکمل کو ان فٹ قرار دیتے ہوئے انہیں وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مکی ارتھر نے عمر اکمل کی جگہ ٹیم میں حارث سہیل کو شامل کیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عمراکمل کسی تنازعے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

سنہ 2015 میں عالمی کپ کے اختتام پر پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ وقاریونس نے عمراکمل اور احمد شہزاد کے غیرسنجیدہ رویوں کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو رپورٹ دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میں نے عمر اکمل کو کوئی گالی نہیں دی اور نہ ہی کوئی نامناسب الفاظ کا استعمال کیا: مکی آرتھر

گذشتہ سال انڈیا میں ہونے والے ورلڈ ٹی 20 کے موقعے پر عمراکمل نے سابق کپتان عمران خان سے اپنے بیٹنگ آرڈر کے بارے میں شکایت کی تھی۔

عمراکمل کو نومبر 2015 میں حیدرآباد میں مبینہ ڈانس پارٹی میں ملوث پائے جانے کے بعد پولیس نے حراست میں لیا تھا اس موقعے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے تحقیقات کرتے ہوئے انھیں کلیئر کردیا تھا۔

گذشتہ سال وہ فیصل آباد میں ایک اسٹیج ڈرامے کے موقع پر تھیئٹرکی انتظامیہ سے مبینہ طور پرجھگڑے میں ملوث پائے گئے تھے جبکہ ایک بار لاہور میں ایک ٹریفک وارڈن سے بھی الجھ پڑے تھے۔

پاکستان کے متعدد سابق ٹیسٹ کرکٹروں نے عمراکمل کے رویے پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ عمراکمل نے اپنے پیر پر خود کلہاڑی ماری ہے۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ عمراکمل کو ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں