'یو یو' ٹیسٹ میں یوراج اور رائینا فیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یواراج سنگھ نے کینسر جیسی بیماری سے صحت یاب ہو کر دوبارہ کرکٹ کھیلنی شروع کی

سری لنکا کے خلاف جب ون ڈے سیریز کے لیے انڈین کرکٹ ٹیم کا اعلان ہوا تو اس میں یوراج سنگھ اور سریش رائینا کا نام نہیں تھا۔ پہلی نظر میں ایسا لگا کہ شاید نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کے لیے انھیں ٹیم سے باہر کیا گيا ہے۔

لیکن دو دن بعد خبر آ ئی کہ دونوں کھلاڑی فٹنس ٹیسٹ میں بھی ناکام رہے اور 'یو یو' ٹیسٹ میں بھی۔ عام کرکٹ شائقین کو اس بات میں دلچسپی ہوگی کہ 'یو یو' ٹیسٹ آخر ہے کیا۔

دراصل کئی زاویوں کی مدد سے 20 میٹر کے فاصلے پر دو قطاریں بنائی جاتی ہیں۔ ایک کھلاڑی لائن کے پیچھے سے آغاز کرتا ہے اور ہدایت ملتے ہی قطاروں کے درمیان دوڑتا ہے۔ اس دوران موسیقی بھی بچ رہی ہوتی ہے۔ موسیقی کی آواز پر ہی مڑنا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یواراج سنگھ اور سریش رینا

ہر منٹ میں تیزی بڑھ جاتی ہے اور اگر کھلاڑی دونوں سروں پر تیز رفتار نہیں ہوتا ہے تو ٹیسٹ روک دیا جاتا ہے۔ کہا جا تا ہے کہ اس ٹیسٹ میں آسٹریلوی کھلاڑی 21 کا سکور کرتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق انڈیا کے کھلاڑی وراٹ کوہلی بھی آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کے برابر یعنی 21 کا سکور کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ، روندر جڈیجہ اور منیش پانڈے کا سکور بھی 21 ہوتا ہے۔

مذکورہ ٹیسٹ میں یوراج اور رائینا 16-16 پوائنٹس حاصل کر پائے۔

تو کیا یہ مان لیا جائے کہ یوراج سنگھ اور سریش رائینا اب ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں انڈین ٹیم میں آنے کے حقدار نہیں رہے۔

اس سوال کے جواب میں انڈین بلے باز شکھر دھون کے کوچ مدن شرما کہتے ہیں کہ یوراج سنگھ تو اپنی بیماری کی وجہ سے اس ٹیسٹ میں ناکام ہو سکتے ہیں، لیکن ماضی میں یوراج سنگھ نے اس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سریش رائینا تو جب وہ اپنی فارم میں ہوتے ہیں تو ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ابھی ان کے پاس کافی وقت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سریش رینا کو فٹ کھلاڑی مانا جاتا ہے لیکن وہ بھی ٹیسٹ میں فیل ہوگئے

انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی کے کوچ راج کمار شرما یو یو ٹیسٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کرتے۔

ان کے مطابق جتنے بھی کھلاڑی انڈر -19، رنجی ٹرافی اور یہاں تک کہ انڈر -17 کرکٹ کھیل رہے ہیں، وہ یو یو ٹیسٹ سے اچھی طرح واقف ہیں۔

انھوں نے کہا وہ اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کہ یوراج سنگھ اور سریش رائینا کے یو یو ٹیسٹ میں ناکام ہونے کی وجہ سے انھیں ٹیم سے باہر کیوں کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وراٹ کوہلی اس ٹیسٹ میں 21 کا سکور کرتے ہیں

شرما نے بتایا کہ یو یو ٹیسٹ کسی بھی کھلاڑی کی تیزی اور قابلیت کو ناپنے کا ایک پیمانہ ہے۔ اس میں 20 میٹر کے سپرنٹس ہوتے ہیں۔ شروع میں رفتار کم ہوتی ہے، بعد میں رفتار میں اضافہ کیا جاتا ہے اور آخر میں لینڈنگ بہت تیز رفتار سے کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق آج کل تھرڈ امپائر اور ریویو کا زمانہ ہے۔ کھلاڑی کچھ سینٹی میٹر سے رن آؤٹ ہوجاتا ہے۔ کھلاڑی کا پوری طرح سے فٹ ہونا بہت ضروری ہے۔

اس لیے اس ٹیسٹ سے کھلاڑی خود کو جان پاتا ہے کہ اس میں کتنا دم خم ہے۔

انڈین ٹیم کے کوچ روی شاستری نے بھی کہا ہے کہ 2019 ورلڈ کپ میں وہی کھلاڑی شامل کیے جائیں گے جو پوری طرح سے فٹ ہوں گے۔ ایسی صورت میں یو یو امتحان پاس کرنا ضروری ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں