سکردو میں انوکھی صحرائی جیپ ریلی

سرفرنگا جیپ ریلی
Image caption ریڈی، سیٹ، گو!

سکردو سے 20 کلومیٹر دور دنیا کے بلند ترین صحراؤں میں سے ایک سرفرنگا میں اپنی نوعیت کی پہلی 'کولڈ ڈیزرٹ' ریلی منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کے سو سے زیادہ مہم جو ڈرائیوروں نے حصہ لیا۔

سکردو کے قریب واقع سرفرنگا میں 18 سے 20 اگست تک اپنی نوعیت کی پہلی کولڈ ڈیزرٹ جیپ ریلی کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ساڑھے سات ہزار فٹ کی بلندی پر منعقد کی گئی۔ سرفرنگا صحرا بھی عام صحراؤں کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے ایک طرف دریائے سندھ بہتا ہے تو ساتھ ہی اس کی ریت پر چاروں طرف برف سے ڈھکی چوٹیوں کا سایہ پڑتا رہتا ہے۔

سرد صحرا میں جیپ ریلی: تصویری جھلکیاں

اس ریلی میں حصہ لینے والے مہم جو ڈرائیوروں نے اس کے لیے خاص طور پر گاڑیاں تیار کی ہیں۔ ڈرائیور اور آٹومیٹو انجینیئر سمیع الرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہاں بلندی کی وجہ سے گاڑیوں کی طاقت 30 سے 40 فیصد کم ہو جاتی ہے، اس لیے انھوں نے اپنی جیپ میں خصوصی تبدیلیاں کی ہیں تاکہ اس وہ مقابلے میں حصہ لے سکے۔'

سمیع الرحمٰن اسلام آباد کی نسٹ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور انھوں نے اپنی گاڑی پر بڑی محنت کی ہے جس میں خاص توجہ اس کی سسپینشن پر دی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس قسم کے مقابلے میں گاڑی کی طاقت اتنا اہم کردار ادا نہیں کرتی جتنی اس کی سسپینشن، کیونکہ اونچے نیچے راستوں پر اچھل اچھل کر کسی عام گاڑی کا انجر پنجر ڈھیلا ہو سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سرفرنگا کا ٹریک خاصا مشکل ہے اور اس میں ڈرائیوروں کو مختلف قسم کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مقابلے کو چھ زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں موٹر سائیکلوں اور خواتین کا زمرہ بھی شامل تھا۔

سرفرنگا صحرا میں ڈرائیوروں اور تماشائیوں کے لیے ایک خیمہ بستی قائم کی گئی جس میں طبی سہولت کا بھی انتظام کیا گیا تھا اور ساتھ ہی سکیورٹی فورسز والے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

ریلی کے منتظمین میں سے ایک سنیل سرفراز ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ فی الحال یہ ٹریک 40 کلومیٹر طویل ہے تاہم اگلے برس کوشش کی جا رہی ہے کہ راستے میں موجود ایک پہاڑی میں سے راستہ بنا کر اس کی طوالت دگنی کر دی جائے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ صرف ڈرائیوروں کے درمیان مقابلہ نہیں ہے بلکہ منتظمین کی خواہش ہے کہ اسے اس علاقے کی سیاحت کا لازمی جزو بنا دیا جائے۔

اس علاقے میں اس قسم ایک نوکھی چیز ہے، اس لیے اسے دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ سکردو سے سرفرنگا جانے والا راستہ ہر وقت گاڑیوں کی آمد و رفت سے کھچا کھچ بھرا رہتا تھا اور خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد مقابلوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے روزانہ وہاں پہنچ جاتی تھی۔

گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری کاظم نیاز نے کہا کہ سرفرنگا ریلی بجٹ نیوٹرل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر حکومت کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا، اور تمام اخراجات سپانسرز کی مدد سے پورے کیے گئے۔

Image caption سیاحوں کی سہولت کے لیے قائم کردہ خیمہ بستی

انھوں نے بتایا کہ بلتستان میں سیاحت کا سیزن عام طور پر 15 اگست تک ختم ہو جاتا ہے، لیکن اس ریلی کی وجہ سے میدانی علاقوں سے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد یہاں پہنچ گئی ہے جس سے مقامی معیشت کو خاصی تقویت ملی ہے۔

شرکا، تماشائیوں اور منتظمین کا جوش و خروش دیکھنے ہوئے لگتا ہے کہ سرفرنگا ریلی اس علاقے کی سیاحت کا مستقل حصہ بن سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں