’اس بار جو زبان استعمال کی گئی وہ برداشت سے باہر تھی‘

عمر اکمل تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی کرکٹر عمر اکمل نے کرکٹ بورڈ کی جانب سے دیے گئے اظہار وجوہ کے نوٹس کا جواب دے دیا ہے۔

عمر اکمل نے جواب داخل کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کافی عرصے سے اپنے ساتھ مبینہ زیادتیاں برداشت کرتے آئے ہیں لیکن اس بار ان کے ساتھ نامناسب زبان استعمال کی گئی جو بقول ان کے اب برداشت سے باہر تھی۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق عمراکمل نے یہ بھی کہا کہ انھیں امید ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ان کے ساتھ انصاف کرے گا۔

کوچ پر نازیبا زبان استعمال کرنے کے الزام پر عمر اکمل کو نوٹس

عمر اکمل کا نازیبا زبان استعمال کرنے کا الزام، مکی آرتھر کی تردید

یاد رہے کہ عمر اکمل کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اظہار وجوہ کا نوٹس 17 اگست کو ان کی اس پریس کانفرنس کے بعد جاری کیا تھا جس میں انھوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ مکی آرتھر نے انھیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ کرنے سے روکتے ہوئے مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کی تھی۔

عمر اکمل نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ مکی آرتھر نے چیف سلیکٹر انضمام الحق اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ مشتاق احمد کی موجودگی میں ان سے نازیبا گفتگو کی تھی تاہم مشتاق احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے وڈیو پیغام میں اس بات کی تردید کی تھی کہ مکی آرتھر نے عمر اکمل سے نازیبا گفتگو کی تھی۔

مکی آرتھر نے عمر اکمل کا الزام سامنے آتے ہی اس کی فوراً تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے عمر اکمل کو ٹریننگ کرنے سے اس لیے روک دیا تھا کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ کے حامل کرکٹر نہیں ہیں اور وہ پہلے اپنی فٹنس پر توجہ دیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی ایک بیان میں عمر اکمل کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمر اکمل سات مرتبہ فٹنس ٹیسٹ میں ناکام ہو چکے ہیں۔

عمر اکمل کی جانب سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر پر تازہ ترین الزام کی کڑیاں چیمپئنز ٹرافی سے قبل انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کے مختصر تربیتی کیمپ سے ملتی ہیں جس میں مکی آرتھر نے عمر اکمل کو ان فٹ قرار دیتے ہوئے انھیں وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا اور ان کی جگہ حارث سہیل کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

غیرسنجیدہ رویہ؟

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عمر اکمل کسی تنازعے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ سنہ 2015 کے عالمی کپ کے اختتام پر پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ وقار یونس نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کے غیرسنجیدہ رویوں کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو رپورٹ دی تھی۔

بھارت میں گذشتہ سال ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے موقع پر عمر اکمل نے سابق کپتان عمران خان سے اپنے بیٹنگ آرڈر کے سلسلے میں اپنی ہی ٹیم منیجمنٹ کی اس وقت شکایت کردی تھی جب عمران خان پاکستانی ٹیم سے ملنے آئے تھے۔

عمر اکمل کو نومبر سنہ 2015 میں حیدرآباد میں مبینہ ڈانس پارٹی میں ملوث پائے جانے کے بعد پولیس نے حراست میں لیا تھا اس موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے تحقیقات کرتے ہوئے انھیں کلیئر کردیا تھا۔

عمر اکمل گذشتہ سال فیصل آباد میں ایک سٹیج ڈرامے کے موقع پر تھیٹر کی انتظامیہ سے مبینہ طور پر جھگڑے میں ملوث پائے گئے تھے۔ اس سے پہلے وہ لاہور میں ایک ٹریفک وارڈن سے بھی الجھ پڑے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں