پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ: شرجیل خان کے بارے میں فیصلہ بدھ کو سنایا جائے گا

شرجیل خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 28 سالہ شرجیل خان نے ایک ٹیسٹ، 25 ون ڈے اور 15 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کا تین رکنی اینٹی کرپشن ٹریبونل پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث کرکٹر شرجیل خان کے بارے میں فیصلہ بدھ کو سنائے گا۔

تین رکنی ٹریبونل کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڈ) اصغر حیدر ہیں اور اس کے ارکان میں لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا اور وسیم باری شامل ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس سال فروری میں پاکستان سپر لیگ کے آغاز میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا تھا جس میں متعدد پاکستانی کرکٹرز مبینہ طور پر ملوث پائے گئے تھے جن میں سے شرجیل خان اور خالد لطیف کو فوری طور پر معطل کردیا گیا تھا۔ دونوں پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائٹڈ کی نمائندگی کر رہے تھے۔

پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ: شرجیل خان پر فرد جرم عائد

سپاٹ فکسنگ سکینڈل: پانچ کھلاڑیوں کےنام ای سی ایل میں شامل

شرجیل خان اور خالد لطیف پر فرد جرم عائد

خالد لطیف کے خلاف بھی ٹریبونل کی کارروائی مکمل ہوچکی ہے اور اس بارے میں فیصلہ جلد سنائے جانے کا امکان ہے۔

اس سکینڈل میں ملوث اسلام آباد یونائٹڈ کے فاسٹ بولر محمد عرفان کو پہلے ہی چھ ماہ پابندی کی سزا دی چکی ہے جبکہ شاہ زیب حسن اور ناصرجمشید کے معاملات ٹریبونل میں زیرسماعت ہیں۔

شرجیل خان اور خالد لطیف پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر پاکستان سپر لیگ شروع ہونے سے پہلے دبئی میں مشکوک افراد سے ملاقات کی تھی جہاں ان کے درمیان ایک ڈیل ہوئی تھی۔ اس ڈیل میں مبینہ بک میکر یوسف اور کرکٹر ناصرجمشید کے نام سامنے آئے تھے۔

برطانوی کرائم ایجنسی نے یوسف اور ناصر جمشید کو حراست میں لے کر ان کے پاسپورٹس اپنی تحویل میں لے لیے تھے بعد میں دونوں کو ضمانت پر رہائی مل گئی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے شرجیل خان اور خالد لطیف پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی ٹریبونل تشکیل دیا تھا۔

شرجیل خان پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ضابطہ اخلاق کی پانچ شقوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا جن کا تعلق مشکوک افراد سے ملنے، اس بارے میں کرکٹ بورڈ کو مطلع نہ کرنے اور مشکوک افراد کی خراب کارکردگی کے لیے پیشکش قبول کرنے سے ہے۔

شرجیل خان پر الزام تھا کہ انھوں نے پاکستان سپر لیگ کے پہلے میچ میں مبینہ طور پر دو ڈاٹ گیندیں کھیلنے کی بکی کی پیشکش قبول کی تھی اور اس پر عمل بھی کیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے تین رکنی ٹریبونل کی کارروائی تقریباً پانچ ماہ جاری رہی جس کے سامنے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ سر رونی فلینیگن بھی پیش ہوئے تھے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

28 سالہ شرجیل خان نے ایک ٹیسٹ، 25 ون ڈے اور 15 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں