’ایک گالفر کی زندگی آسان نہیں ہوتی`

دامل
Image caption دامل نے سات سال کی عمر میں گالف کھیلنا شروع کی اور یہ ان کا پہلا بین الاقوامی ٹورنامنٹ تھا

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ دامل عطا اللہ حال ہی میں سری لنکا میں ہونے والی جونیئر ٹیم گالف چیمپیئن شپ جیت کر وطن لوٹے ہیں۔

دامل نے سات سال کی عمر میں گالف کھیلنا شروع کی اور یہ ان کا پہلا بین الاقوامی ٹورنامنٹ تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو اپنی کامیابی کے بارے میں بتایا 'سری لنکا میں کھیلنے کا تجربہ بہت اچھا تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں چار ممالک پاکستان، سری لنکا، انڈیا اور بنگلادیش حصہ لے رہے تھے۔ مقابلہ بہت مشکل تھا، یہ میرا پہلا بین الاقوامی ٹورنامنٹ تھا اور اسے جیت کر آنا میرے لیے بہت ہی خاص احساس تھا۔ وطن واپس لوٹا تو کوچ سمیت میرے ساتھیوں نے ایک ہی چیز کہی کہ میں نے پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستانی بھی گالف کھیل سکتے ہیں۔'

سوات میں بیس سال بعد گالف ٹورنامنٹ

پاکستان میں جہاں ہر گلی اور محلے میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے، کسی بھی بچے کے لیے گالف کو اپنا لینا تھوڑا مشکل ہے۔ دامل بھی عام پاکستانی بچوں سے مختلف نہ تھے۔ ان کے والد انھیں سات سال کی عمر میں زبردستی گالف رینج لے جاتے اور دامل روتے کہ بابا آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں؟

Image caption سنہ 2011 میں جب دامل نے اپنا پہلا مقامی ٹورنامنٹ جیتا تب کہیں جا کر انھیں گالف میں اپنی پہچان ملی

سنہ 2011 میں جب دامل نے اپنا پہلا مقامی ٹورنامنٹ جیتا تب کہیں جا کر انھیں گالف میں اپنی پہچان ملی۔ وہ اس کا کریڈٹ اپنے والد صہیب عطا اللہ کو دیتے ہیں۔

'مجھے ابا نےگالف کھیلنے کے لیے جہاں بہت لالچ دیے وہیں انھوں نے میرا بہت ساتھ بھی دیا۔ انھیں موسم کی سختیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، چاہے سردی ہو یا گرمی، وہ گالف کورس پر گھنٹوں کھڑے رہتے تھے، میں تھک جاتا تھا لیکن ابا نہیں تھکتے تھے۔ چونکہ پاکستان میں گالف مقبول کھیل نہیں، اسی لیے اس کے متعلق معلومات حاصل کرنا بھی کٹھن مرحلہ تھا لیکن ابا کہیں نہ کہیں سے میچوں اور ٹورنامنٹس کا پتہ لگا ہی لیتے تھے۔'

گالف کھیلنا آسان کام نہیں ہے۔ دامل دن میں نو سے دس گھنٹے گالف کھیلتے ہیں اور باقی وقت ورزش اور پڑھائی کو دیتے ہیں۔ اس تمام تر روٹین میں سکول جانا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہونے لگا تو دامل کے والدین نے طے کیا کہ یہ نوجوان گالفر اب کیمبرج او لیول کی پڑھائی ہوم ٹیوشن سے کریں گے۔ گالف کے لیے دامل کو سکول ہی نہیں اور بھی بہت کچھ چھوڑنا پڑا۔

'جب میں گالف کھیل رہا ہوتا ہوں تو میری عمر کے نوجوان پارٹی کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ پیزا کھا رہے ہوتے ہیں، میں سبزیاں کھا رہا ہوتا ہوں۔ وہ کولڈ ڈرنک پی رہے ہوتے ہیں اور میں پروٹین شیک۔ شروع میں الٹیاں کر رہا ہوتا تھا کہ کیا کھلا دیا ہے مجھے لیکن اب عادت ہو گئی ہے تو سب اچھا لگتا ہے۔'

Image caption دامل کی خواہش ہے کہ وہ اکاؤنٹنگ کی پڑھائی کے لیے بیرون ملک جائیں تاکہ پروفیشنل گالفر کے ساتھ وہ ایک کامیاب بینکر بھی بن سکیں۔

دامل کا ماننا ہے کہ ان کا سفر قدرے آسان ہوتا اگر پاکستان میں گالف کو اس کو صحیح پہچان حاصل ہوتی۔ ان کے مطابق نوجوان نسل پر اگر انویسٹمنٹ کی جائے تو دنیا بھر میں پاکستانی گالفرز کا ایک اپنا مقام ہو گا۔

'پاکستان میں گالف کو پہچان اس صورت میں مل سکتی ہے جب پاکستان گالف فیڈریشن جونیئر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے کیونکہ جو بڑی عمر کے کھلاڑی ہیں وہ تو گالف کھیل چکے ہیں اور اب انھوں نے باہر جا کر نہیں کھیلنا۔ ہم جیسے نوجوان کھلاڑیوں نے آگے جا کر گالف کھیلنی ہے اور گالف میں پاکستان کا نام بنانا ہے۔'

دامل کی خواہش ہے کہ وہ اکاؤنٹنگ کی پڑھائی کے لیے بیرون ملک جائیں تاکہ پروفیشنل گالفر کے ساتھ وہ ایک کامیاب بینکر بھی بن سکیں۔

متعلقہ عنوانات