آزادی کپ: پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے ورلڈ الیون کو باآسانی 20 رنز سے ہرا دیا

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لاہور کے تاریخی قذافی سٹیڈیم میں آزادی کپ کے پہلے ٹی 20 انٹرنیشنل میں ورلڈ الیون کو پاکستان نے باآسانی 20 رنز سے ہرا دیا۔

اننگز کے اختتام تک ورلڈ الیون کی ٹیم اپنے مقررہ 20 اوورز میں سات وکٹوں پر 177 رنز بنا سکی۔

ورلڈ الیون کی جانب سے چار کھلاڑیوں نے 20 سے 30 کے درمیان سکور کیے لیکن کوئی اس سے آگے سکور نہ بڑھا سکا۔

پاکستان کی جانب سے سہیل خان، رمان ریئس اور شاداب خان نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

ہاشم آملہ اور تمیم اقبال نے اننگز کا محتاط آغاز کیا مگر پھر ہاشم آملہ نے اپنی بیٹنگ کے جوہر دکھانے شروع کیے۔ پہلے سہیل خان اور پھر اس کے بعد حسن علی کو چوکے پڑے تو تمیم اقبال نے بھی کھل کر کھیلنا شروع کیا۔

پانچ اوور کے بعد ورلڈ الیون کا سکور 39 رنز تھا لیکن اس کے بعد چھٹے اوور میں رمان ریئس نے تمیم اقبال کی وکٹ حاصل کر لی جو 18 رنز بنا سکے اور اسی اوور کے آخری گیند پر انھوں نے ہاشم آملہ کو بھی 26 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تمیم اقبال نے 18 رنز بنائے

دو وکٹیں گرنے کے بعد کپتان فاف ڈو پلیسی نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرنا شروع کیا اور ٹم پین کے ساتھ 53 رنز کی شراکت داری قائم کی لیکن 13ویں اوور میں شاداب خان نے کپتان ڈو پلیسی کو 29 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

اگلے ہی اوور میں سہیل خان نے آسٹریلیا کے ٹم پین کو 25 رنز پر آؤٹ کر کے پاکستان کے لیے چوتھی کامیابی حاصل کر لی۔

15ویں اوور میں ڈیوڈ ملر نے شاداب خان کو بلند و بالا چھکا مارا لیکن اگلی گیند پر شاداب نے ان کو سٹمپ آؤٹ کروا دیا۔

16ویں اوور میں تھسارا پریرا نے رمان ریئس کو لگاتار تین چوکے لگائے لیکن اگلے اوور میں گرانٹ ایلیٹ کو سہیل خان نے آؤٹ کر دیا۔

اننگز کے آخری چار اوورز میں پریرا اور ڈیرن سیمی نے اپنی سی کوشش کی لیکن پاکستان کے سکور کے سامنے وہ بے بس ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران طاہر نے اپنے آخری اوور میں بابر اعظم کو 86 رنز پر آؤٹ کر دیا

اس سے قبل جب میچ شروع ہوا تو ٹاس ہارنے کے بعد پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے بیس اوورز میں 197 رنز بنائے اور اس کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

بابر اعظم 86 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ شعیب ملک نے بھی صرف 29 گیندوں پر 38 رنز بنا کر ان کا اچھا ساتھ دیا۔

پاکستان کی جانب سے فخر زمان اور احمد شہزاد نے بلے بازی کا آغاز کیا جبکہ ورلڈ الیون کی جانب سے مورنے مورکل نے پہلا اورر کرایا۔ میچ کی پہلی دو گیندوں پر فخر زمان نے چوکے لگائے لیکن اسی اوور کی چوتھی گیند پر وہ آؤٹ ہو گئے جس کے بعد بابر اعظم کریز پر آئے۔

تھسارا پریرا کے اوور میں بابر اعظم نے دو گیندوں پر دو چوکے لگائے اور پاکستان کو تیز آغاز فراہم کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بابر اعظم 86 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے

دسویں اوور میں بابر اعظم نے آٹھ چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کر لی۔

15ویں اوور میں پاکستان کو دوسرا نقصان اٹھانا پڑا جب احمد شہزاد آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے 34 گیندوں پر 39 رنز بنائے لیکن کسی بھی موقع پر وہ اپنی اننگز کے دوران پراطمینان محسوس نہیں ہوئے۔

16ویں اوور میں عمران طاہر نے بابر اعظم کی وکٹ حاصل کر لی جو 86 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

18ویں اوور میں تیز کھیلنے کی کوشش میں کپتان سرفراز احمد کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔

آخری اوور کی پہلی گیند پر چھکا مارنے کے بعد شعیب ملک نے دوبارہ تیز کھلینے کی کوشش کی اور وہ بولڈ ہو گئے۔ انھوں نے صرف 20 گیندوں پر 38 رنز بنائے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ سرفراز احمد ہوم گراؤنڈ پر کسی انٹرنیشنل میچ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔

اس میچ میں ورلڈ الیون کی ٹیم فاف ڈو پلیسی کے علاوہ ہاشم آملا، تمیم اقبال، ڈیوڈ ملر، گرانٹ ایلیٹ، تھسارا پریرا، ٹم پین، بین کٹنگ، ڈیرن سیمی، مورن مورکل اور عمران طاہر پر مشتمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے احمد شہزاد، فخر زمان، بابر اعظم، شعیب ملک، سرفراز احمد، عماد وسیم، فہیم اشرف، سہیل خان، حسن علی اور رمان ریئس کھیلیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبد الرشید شکور کے مطابق پاکستانی ٹیم میں شامل صرف پانچ کرکٹرز سرفراز احمد، احمد شہزاد، عماد وسیم، سہیل خان اور شعیب ملک اس سے قبل پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

ورلڈ الیون میں شامل کرکٹروں میں ہاشم آملا، تمیم اقبال اور پال کولنگ ووڈ اس سے قبل پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کھیل چکے ہیں۔

آئی سی سی میچ ریفری ویسٹ انڈیز کے رچی رچرڈسن اس سیریز کو سپروائز کریں گے جبکہ علیم ڈار اور احسن رضا پہلے میچ کے امپائر ہیں۔

شائقین کی بہت بڑی تعداد دوپہر سے ہی اسٹیڈیم کے قریب پہنچ چکی تھی جنہیں ضروری تلاشی کے بعد انکلوژرز تک جانے اور پھر سٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ورلڈ الیون کے کھلاڑی کو رکشوں میں سٹڈیم میں لایا گیا

سٹیڈیم میں 25 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

شائقین کو سٹیڈیم لانے کے لیے دو مقامات سے شٹل سروس کا انتظام کیا گیا ہے۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات کی وجہ سے شائقین کے لیے اپنے ساتھ قومی شناختی کارڈ لانا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ بچوں کو ب فارم ٹکٹ کے ساتھ رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔

سٹیڈیم کے اطراف تمام دکانیں اور تجارتی مراکز میچوں کے موقعے پر بند کرا دیے گئے ہیں۔

سٹیڈیم اور ہوٹل کے راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور ٹیم کی آمدورفت کے موقع پر سڑکیں عام لوگوں کے لیے بند کردی گئی تھیں۔

اس سلسلے کے اگلے دو میچ لاہور ہی میں 13 اور 15 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

مئی 2015 میں پاکستان نے زمبابوے کے خلاف تین ون ڈے انٹرنیشنل اور دو ٹی 20 انٹرنیشنل میچوں کی میزبانی لاہور میں کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں