کرکٹ یقیناً ایک بہتر موضوع سخن ہے

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

قذافی سٹیڈیم کے سٹینڈز کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں، میچ ختم ہو چکا ہے، پاکستان صرف یہ میچ ہی نہیں، سیریز بھی جیت چکا ہے۔

عموماً ہوا یہ کرتا ہے کہ جب میچ کا پانسہ ایک جانب جھک جائے تو شائقین نشستوں سے اٹھنے لگتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ ٹریفک کا جمگھٹا لگنے سے پہلے ہی گھر کو نکل لیا جائے، مگر آج کوئی اٹھنے کو تیار نہیں ہے۔ شاید ذہنوں پہ کوئی اداسی سی چھا رہی ہے جیسے ایک سہانا سپنا ختم ہو رہا ہے۔

ورلڈ الیون کے کوچ اینڈی فلاور سمیت پوری ٹیم قذافی کی باونڈری لائن کے ساتھ ساتھ ایک گروہ کی طرح چل رہی ہے۔ میچ اور سیریز ہاتھ سے جانے کا دکھ تو دور کی بات، کوئی ملال تک نہیں ہے۔ پوری ٹیم مسکراہٹیں سجائے کراوڈ کی جانب ہاتھ ہلا رہی ہے۔ ورلڈ الیون پاکستان کے عوام اور قذافی کے کراوڈ کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔

اس سے کچھ دیر پہلے کمنٹری باکس میں گرانٹ ایلیٹ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ان کی خواہش ہے وہ کچھ دن اور پاکستان میں کھیلیں۔ کاش یہ سیریز کچھ دن اور باقی رہتی۔

پاکستان کا سپورٹس کلچر نہایت زرخیز ہے۔ چار ہاکی ورلڈ ٹائٹلز اور کرکٹ کے تین ورلڈ ٹائٹلز محض ایک جھلک ہیں۔ یہ قوم نہ صرف کھیل سے محبت کرتی ہے بلکہ کھیل کی خاطر اپنے جذبات کی رو میں بہہ جاتی ہے۔ کرکٹ پاکستان کا پسندیدہ ترین کھیل ہے۔ نوے کی دہائی میں جھانکیے تو ہر دوسرا بچہ وسیم اکرم بننا چاہتا تھا۔ اسی کی دہائی میں ہر کوئی عمران خان بننا چاہتا تھا۔ پچھلے چند سال میں کرکٹ پہ نظریاتی مباحث نے بھی جنم لیا۔ رت کوئی بھی ہو، کرکٹ ہمیشہ ہمارے قومی مباحث کا حصہ رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اگر شائقین کی تعداد کو معیار مانا جائے تو اس مفروضے میں کچھ جھول نظر آتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا شائقین کی تعداد کو معیار ٹھہرانا درست ہے؟ کیونکہ اگر شائقین کی تعداد کو کھیل سے محبت کا پیمانہ سمجھا جائے تو چیمپئینز ٹرافی بھی کچھ زیادہ کامیاب ایونٹ نہیں تھا۔ وہ انگلینڈ جہاں لارڈز ٹیسٹ میں شرکت ایک روایتی فرض سمجھا جاتا ہے، وہاں چیمپئینز ٹرافی کے کراؤڈز کو معیار مان کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انگلینڈ کے لوگ کرکٹ سے زیادہ لگاؤ نہیں رکھتے۔

ورلڈ الیون کا یہ دورہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔ اس سے کہیں پہلے پی سی بی اور ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ میں ایک ٹور کے لیے مذاکرات جاری تھے۔ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کے صدر ڈیو کیمرون نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ورلڈ الیون کا دورہ کامیاب رہا تو وہ اپنی ٹیم کو ضرور پاکستان بھیجیں گے۔ اس سیریز کا ابھی ایک میچ باقی تھا کہ ڈیو کیمرون کل شام پی سی بی ایوارڈز کی تقریب میں نظر آئے۔

یہ سیریز کون جیتا، کون ہارا، کسی کو اس سے غرض نہیں ہونی چاہئے۔ فی الوقت صرف ایک پیغام ہے جو سب کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے پاکستان کرکٹ کو تنہا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، انھیں اب یہ معلوم ہو جانا چاہیے کہ کرکٹ کو پاکستان سے ختم کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ثانیا اس سے پوری دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔ شاید کرکٹ برادری کے سبھی بڑوں کو اس امر کا ایسا یقین نہ آئے کہ وہ فی الفور اپنی ٹیموں کو پاکستان بھیجنے لگیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ پلیئرز اپنی انفرادی حیثیت میں اس بات کے قائل ہو جائیں گے کہ پاکستان کا دورہ کرنا کوئی سکیورٹی رسک نہیں ہے۔

سو جہاں اس سال پی ایس ایل فائنل کے لئے پی سی بی کو پوری دنیا سے لڑنا پڑا تھا، وہاں اگلے پی ایس ایل سیزن کے لیے پاکستان کی مشکلیں خاصی آسان ہو جائیں گی۔ پی سی بی کی یہ خواہش ہے کہ وہ اگلے سال صرف فائنل ہی نہیں، کم از کم پی ایس ایل کے آٹھ میچز پاکستان میں کروائے۔

اگر ایسا ہو گیا تو نہ صرف پاکستان کو اپنے سبھی گراونڈز آباد کرنے کا موقع ملے گا بلکہ اس سے اتنا ریونیو ضرور حاصل ہو سکے گا کہ ورلڈ الیون کے اس دورے پہ اٹھنے والے اخراجات کا مداوا بھی ہو سکے گا۔

مگر سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ پچھلے چند روز پاکستان میں صرف کرکٹ ہی موضوع سخن رہی۔ اور اگر سخن کے بنا چارہ نہیں تو کرکٹ یقیناً ایک بہتر موضوع سخن ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں