پاکستان کے کرکٹ کے بدعنوان کھلاڑی جن کو سزائیں ہوئیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر ناصر جمشید پر سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے تفتیش کاروں کے ساتھ عدم تعاون پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان پر یہ پابندی کرکٹ بورڈ کی انسداد بدعنوانی عدالت نے لگائی ہے۔

واضح رہے کہ اس سال فروری میں کھیلے جانے والی پاکستان سپر لیگ کے سیزن ٹو کے آغاز پر پاکستانی کھلاڑیوں شرجیل خان، خالد لطیف، ناصر جمشید، شاہ زیب حسن خان اور محمد عرفان پر سپاٹ فکسنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

سپاٹ فکسنگ سکینڈل: ناصر جمشید پر بھی فردِ جرم عائد

محمد سمیع اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش

پاکستان کرکٹ بورڈ کا مؤقف رہا ہے کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ناصر جمشید کا اہم کردار رہا ہے اور انہی کی وساطت سے شرجیل خان اور خالد لطیف نے یوسف انور نامی شخص (بُکی) سے ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹورنٹو میں صحارا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوران انڈیا کے خلاف گیند کراتے ہوئے سلیم ملک کا ایک انداز

سلیم ملک پر تاحیات پابندی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے میچ فکسنگ کی تحقیقات کے لیے حکومت پاکستان سے ایک کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی تھی جس نے اگست 1998 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ملک محمد قیوم پر مشتمل کمیشن قائم کیا۔ اس کمیشن نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک پر میچ فکسنگ کے الزام میں تاحیات پابندی عائد کی تھی۔ ان پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

فاسٹ بولرعطاء الرحمن پر بھی تاحیات پابندی عائد کی گئی تھی۔ ساتھ ہی ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

کمیشن نے تحقیقات کے دوران عدم تعاون پر وسیم اکرم اور لیگ سپنر مشتاق احمد پر تین تین لاکھ روپے جبکہ انضمام الحق، سعید انور، اکرم رضا اور وقار یونس پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دورۂ انگلینڈ کے دوران سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے کے جرم میں تینوں کھلاڑیوں کو کئی سالوں کی معطلی کے ساتھ قید کی سزائیں بھی بھگتی پڑیں

محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف

2010 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے دوران سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا جس میں تین کرکٹرز سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر ملوث تھے۔

اس سکینڈل میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستانی فاسٹ بالرز محمد عامر اور محمد آصف مبینہ طور پر بک میکر سے طے کیے گئے معاملات کے مطابق نو بال کریں گے۔

آئی سی سی نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ٹریبونل قائم کیا جس نے سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کی جن میں پانچ سال معطل سزا کے تھے۔ محمد آصف پر سات سال کی پابندی عائد کی گئی جن میں دو سال معطل سزا کے تھے جبکہ محمد عامر پر پانچ سالہ پابندی عائد کی گئی۔

یہ تینوں کرکٹرز لندن کی عدالت کی جانب سے سزاؤں سے بھی نہ بچ سکے۔

محمد عامر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ محمد آصف کو ایک سال قید کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کپتان سلمان بٹ کو ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شرجیل خان اور خالد لطیف

اس سال پاکستان سپر لیگ میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث کرکٹرز خالد لطیف اور شرجیل خان پر پانچ پانچ سال کی پابندی عائد کی گئی۔ ان دونوں نے دبئی میں ایونٹ کے دوران مبینہ طور پرایک مشکوک شخص سے ملاقات کرکے معاملات طے کیے تھے۔

اسی سکینڈل میں فاسٹ بولر محمد عرفان پر بھی ایک سال کےلیے پابندی عائد کی گئی ان پرالزام تھا کہ انھوں نے مشکوک فرد کی جانب سے کیے گئے رابطے کی بروقت اطلاع پاکستان کرکٹ بورڈ کو نہیں دی تھی۔

اسی سکینڈل میں سابق اوپنر ناصرجمشید پر بھی ایک سالہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے تحقیقات کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ سے تعاون نہیں کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں