آئی سی سی کو جلدی کاہے کی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پورٹ ایلزبتھ میں کھیلے گئے اس میچ میں جنوبی افریقہ نے زمبابوے کو ایک اننگز اور 120 رنز سے شکست دی

بہت شور سنتے آ رہے تھے پہلے چار روزہ ٹیسٹ میچ کا، لیکن ہوا تو کیا۔ صرف 907 گیندیں پھینکی گئیں، تین اننگز ہی کھیلنی پڑیں، کُل چار سو اٹھانوے رنز بنے اور پانچویں سیشن کے ختم ہونے سے بھی پندرہ منٹ پہلے یہ تاریخی میچ ختم ہو چکا تھا۔

یہ پہلا ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ تھا جس میں صرف پہلے روز ہی لائٹس جلانے کی ضرورت پڑی۔ دوبارہ یہ نوبت آنے تک بساط لپٹ چکی تھی۔

ایسا نہیں کہ کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے اس تاریخی میچ کو کامیاب بنانے کے لیے خاطر خواہ تگ و دو نہیں کی۔ باکسنگ ڈے کو چنا گیا۔ پہلے تو پاکستان سے درخواست کی گئی کہ وہ صرف ایک ٹیسٹ کے لیے ساؤتھ افریقہ کا دورہ کرے لیکن پی سی بی نے پچھلے سال کے برعکس دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ایشز ایک صدی اور زندہ رہ پائے گی؟

آئی سی سی لیگ کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی شرط

پھر کیلنڈر پہ بار بار نظر دوڑائی گئی اور بالآخر جب کچھ سجھائی نہ دیا تو زمبابوے کو ہی پہلے چار روزہ ٹیسٹ میچ کے لیے مدعو کر لیا گیا اور یوں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے پہلے چار روزہ میچ کا نتیجہ اس کے انعقاد سے بہت پہلے ہی نوشتہ دیوار ہو گیا۔

اس کے باوجود کرکٹ ساؤتھ افریقہ نے اپنی سی کوشش جاری رکھی کہ کسی نہ کسی طرح اس میچ میں دلچسپی کا سامان موجود رہے۔ طویل انجری کے بعد ڈیل سٹین اور ڈی ولیئرز کی واپسی کے لیے اسی میچ کو چنا گیا۔ اس تجرباتی ایونٹ کے لیے جس طرح کی مارکیٹنگ کی گئی، اس کے بعد یہ ’لو پروفائل‘ مقابلہ ہونے کے باوجود توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

لیکن قسمت دیکھیے، ایک اور انجری آڑے آ گئی۔ ڈیل سٹین کو دیکھنے کی حسرت پھر رہ گئی۔ وکٹ دلچسپ بنائی گئی اور پہلی شام جنوبی افریقہ کی بیٹنگ جس طرح سے منتشر ہوئی، امید بھی تھی کہ زمبابوے اس رسمی سے مقابلے میں بھی کچھ نہ کچھ سنسنی پیدا کر لے گا۔

لیکن جتنی جلدی میں یہ میچ طے کیا گیا تھا، جس طرح کی فرسٹریشن اس کے انعقاد میں دکھائی گئی اور جتنی جلدی یہ میچ ختم ہوا، اس سے نہ صرف کرکٹ شائقین کو مایوسی ہوئی بلکہ ایک بار پھر، آئی سی سی کا ایک اور بے سبب تاریخی تجربہ بے ثمر ثابت ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی افریقہ کے 309 رنز کے جواب میں زمبابوے پہلی اننگز میں 68 اور دوسری اننگز 121 رنز ہی بنا سکا

اچنبھے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف براڈکاسٹرز کے دباؤ میں آ کر آئی سی سی لیگ سسٹم اور ٹیسٹ چیمپئین شپ جیسے اقدام پہ آمادہ ہو رہی ہے اور دوسری جانب ٹیسٹ کرکٹ کی بقا کے لیے ایسی کم مائیگی کہ چار روزہ ٹیسٹ کا تجربہ ہی ایسی دو ٹیموں کے درمیان کیا جاتا ہے جن کا چار روزہ کرکٹ تو دور، تین گھنٹے کا جوڑ بھی نہیں بنتا۔

پچھلے دس سال سے کرکٹ کا ہر فارمیٹ آئی سی سی کی ڈائسیکشن ٹیبل پہ پڑا ہے۔ قوانین مسلسل تغیر سے گزر رہے ہیں۔ ون ڈے کرکٹ کی ہئیت ہی بدل گئی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کی ایسی بھرمار ہے کہ کسی چھکے، کسی چوکے کا مفہوم سمجھ نہیں آتا۔ آئی سی سی کا فریم ورک ہی نہیں، کرکٹ کی کوالٹی بھی براڈ کاسٹرز کے سود و زیاں کی نذر کی جا چکی ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ فی الوقت آئی سی سی کی توجہ کرکٹ کے معیار سے کہیں زیادہ مقدار پہ ہے۔ ہر ایونٹ، ہر میچ، ہر مقابلے کو صرف ریٹنگ کے پیمانے سے ناپا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے 10 سال میں تین بار چیمپئینز ٹرافی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور پچھلے دونوں ایڈیشنز کو اپنے تئیں الوداعی ایڈیشنز بتایا گیا، مگر بجھتی لو کی اٹھان دیکھ کر پھر فیصلے بدل گئے۔

آئی سی سی کو فکر لاحق ہے کہ کرکٹ کرہ ارض کے سبھی خطوں میں کیوں نہیں کھیلی جا رہی۔ فٹبال بھی تو ہے جس کے ہاں پیسے کی بارش کبھی تھمتی ہی نہیں ہے۔ کرکٹ ایسا کیوں نہیں کر سکتی۔ یہی وہ سوچ تھی جس کے تحت فیفا کے تجربہ کار مارکیٹرز کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔ اسی ذہنی کیفیت نے نت نئے قوانین اور سٹرکچرز کا باب بھی کھولا۔

گو ان کاوشوں میں بنیادی تحریک تو یہی تھی کہ کرکٹ زیادہ سے زیادہ مقبول ہو، لیکن اثر مختلف رہا ہے۔ کون کب کہاں کس سے کھیل رہا ہے اور کیوں کھیل رہا ہے، کسی کو نہیں معلوم۔ بھارت پچھلے دو سال سے اپنے گھر میں ہی کیوں کھیل رہا ہے، کوئی نہیں جانتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زمبابوے کی پہلی اننگز میں مورنی مورکل نے اور دوسری اننگز میں مہاراج نے پانچ، پانچ وکٹیں لیں

مسئلہ یہ ہے کہ جیسے فٹبال کے ماڈل کو اپنا کر آئی سی سی سپورٹس مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، وہ ماڈل ثمربار ہو ہی نہیں سکتا کیوں کہ کرکٹ کا صارف فٹبال کے فین سے یکسر مختلف ہے۔

فٹبال کا صرف ایک ہی فارمیٹ ہے جو روز اول سے چلا آ رہا ہے جبکہ کرکٹ ہر چند سال بعد اپنا حلیہ بدل رہی ہے۔ ایسے میں جہاں ایک نیا فارمیٹ کچھ نئی آنکھوں سے داد سمیٹتا ہے، وہیں کئی عشاق کہن کرکٹ کے مستقبل سے روٹھنے بھی لگتے ہیں۔

اس قضیے میں گو سب توانائیاں ٹیسٹ کرکٹ کو بچانے میں صرف کی جا رہی ہیں مگر عالم یہ ہے کہ ایشز میں بھی کراوڈز ٹوٹنے لگے ہیں۔ گلابی گیند سے کچھ سہارا تو ملا ہے مگر ڈے نائٹ ارتقا بھی ٹیسٹ کرکٹ کو آب حیات نہیں دے سکا اور آئی سی سی کی پیشانی پہ پسینہ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ تجوریاں بھرنے کا ذوق اور کرکٹنگ اقدار کی علمبرداری ایک ساتھ نہیں چل پا رہے۔

اسی خلجان میں جھٹ پٹ چار روزہ نسخہ تیار کیا گیا، بنا سوچے سمجھے ایک بورڈ کو یہ تاریخی اعزاز نواز دیا گیا اور فیوچر ٹور پروگرام سے سر ٹکرا ٹکرا کر چار و ناچار زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ہی مقابل ٹھہرا دیا گیا۔

نتیجہ کیا ہوا اور کیسے ہوا، یہ بحث ہی بے معنی ہے۔ فی الوقت صرف یہ جانچنا مقصود تھا کہ چار روزہ ٹیسٹ اس کلچر کو سہارا دے پاتا ہے یا نہیں اور اس جانچ میں آئی سی سی نے اتنی عجلت برتی کہ تاریخ کا پہلا چار روزہ ٹیسٹ میچ دوسری شام کی بتیاں جلنے سے پہلے ہی بجھ گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں