'کرکٹ کے لیجنڈز بھی کرکٹ پہ رحم کریں'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسٹریلوی کپتان سٹیون سمتھ اور برطانوی کپتان جو روٹ میچ برابری پر ختم ہونے کے بعد ہاتھ ملا رہے ہیں

یونس خان اپنی اننگز کو دھیرے دھیرے آگے بڑھا رہے تھے۔ انھوں نے سِنگل لے کر سٹرائیک اپنے پارٹنر کو دی۔ چونکہ دونوں اینڈز سے بولنگ بہت اچھی ہو رہی تھی، اس لیے کمنٹری باکس میں موجود ایک سابق کرکٹر کو گمان گزرا کہ شاید یونس خان اس وقت خوفزدہ ہیں اور اپنی وکٹ بچانا چاہ رہے ہیں۔

ایسا گمان گزرنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ لیکن اظہار میں احتیاط برتنی چاہیے۔ مذکورہ کمنٹیٹر نے اس گمان کا نہ صرف اظہار کر ڈالا بلکہ اپنے الفاظ کو پاکستانی شائقین کے لیے قابل قبول بنانے کی کوشش میں اپنی گفتگو کو ایک ہنسی سے ہلکا بھی کیا۔ گو یوں اس کی تلخی الٹا بڑھ گئی۔

کچھ دیر بعد یونس خان نے اسی اٹیک کو گراؤنڈ کے چاروں اطراف دوڑیں لگوائیں، ایک لمبی اننگز کھیلی اور میچ پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا۔

مزید پڑھیے

آئی سی سی کو جلدی کاہے کی ہے؟

کیا ایشز ایک صدی اور زندہ رہ پائے گی؟

کیا یہ 21ویں صدی کی بہترین گیند تھی؟

پانچ روز قبل جب انگلش ٹیم میلبرن کرکٹ گراونڈ میں اتری تو ان کی آنکھوں سے کافی بے خواب راتیں جھلک رہی تھیں۔ پچھلے تین ماہ میں کیا کچھ نہیں گزرا۔ سٹوکس کی مکے بازی سے لے کر جونی بیئرسٹوو کی ٹکر تک ایسا ایسا میڈیائی مصالحہ بھگتنا پڑا جس کا کرکٹ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن تسمانین ساحلوں کے پار اتری غریب الدیار انگلش ٹیم کو یہ سب بھی سہنا پڑا اور پہلے تین میچز میں ہی ایشز بھی کھونا پڑی۔

میلبرن ٹیسٹ کا انعقاد صرف اس لیے ضروری تھا کہ باکسنگ ڈے کرکٹ سے خالی نہ رہ جائے ورنہ کرکٹ کے میدان میں برتری تو ایک ہفتہ پہلے ہی ثابت ہو چکی تھی۔ کم از کم آسٹریلوی میڈیا کا یہی خیال تھا۔

لیکن میلبرن میں کچھ ایسی کایا کلپ ہوئی کہ پے در پے تنقید کے نشتر جھیلتے سٹورٹ براڈ کی چکا چوند بھی لوٹ آئی اور متواتر ریٹائرمنٹ کے مشورے سننے والے الیسٹر کُک بھی بھرپور نظر آئے۔ اور یوں سیریز میں پہلی بار آسٹریلیا بیک فٹ پہ جاتی نظر آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انگلینڈ کے سابق کپتان اور اوپنر الیسٹر کک نے سیریز میں خراب فارم ہونے کے باوجود اس میچ میں انگلینڈ کی پہلی اننگز میں شاندار 244 رنز بنائے جس کی مدد سے انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا پر 164 رنز کی سبقت لینے میں کامیاب ہو گئی تھی

ایسے میں جب چوتھے روز کا ایک خاطر خواہ حصہ بھی بارش کی نذر ہو گیا تو چینل نائن کی کمنٹری ٹیم نے میلبرن کی مردہ وکٹ کھود کر بال ٹیمپرنگ کا چوہا برآمد کر لیا۔ میچ کا نتیجہ تو خیر جو ہوتا سو ہوتا، لیکن آسٹریلوی میڈیا کی خوابیدہ سکرینوں اور شائقین کے چہروں پہ رونق ضرور لوٹ آئی۔

کمنٹری باکس میں سب سے پہلے شین وارن نے یہ نعرہ مستانہ لگایا کہ گیند کو ناخن سے کھرچ کر صاف کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے۔ ان کی تائید میں مائیکل سلیٹر کی صدا بلند ہوئی۔ لگے ہاتھ مائیک ہسی نے بھی پیشگوئی کر ڈالی کہ آئی سی سی اس پہ جواب طلبی ضرور کرے گی۔

مجموعی طور پہ یہ تینوں سابق آسٹریلوی کرکٹرز لگ بھگ تین سو ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں اور چینل نائن کی کمنٹری ٹیم میں کام کرتے ہوئے بھی انہیں کئی برس بیت چکے ہیں۔ لیکن اپنے تمام تر کرکٹنگ تجربے اور براڈکاسٹنگ مہارت کے باوجود یہ تینوں عظیم کرکٹرز بال ٹیمپرنگ کا الزام لگانے سے پہلے یہی دیکھنا بھول گئے کہ گیند کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا تھا، امپائرز کی نظروں کے سامنے ہو رہا تھا۔

یہی نہیں، تین سو ٹیسٹ میچز کا تجربہ رکھنے والے یہ شاندار کرکٹرز یہ بھی نہ دیکھ پائے کہ گیند پہ جہاں اینڈرسن ناخن سے کھرچ رہے تھے، ناخن کے نیچے مینوفیکچرنگ کمپنی کا لوگو صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اپنے تمام تجربے اور کرکٹنگ وِزڈم کے باوجود تینوں یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ اگر گیند سے چھیڑ چھاڑ ہی مقصود تھی تو کیا پانچ سو وکٹیں لینے والے اینڈرسن کو یہ بھی نہیں پتا کہ ریورس سوئنگ حاصل کرنے کے لیے ناخن چمکدار سائیڈ پہ مارنا ہے یا کھردری سائیڈ پہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسٹریلوی کپتان سٹیون سمتھ نے سال کی چھٹی اور سیریز کی تیسری سنچری بنا کر برطانیہ کی برتری کو ختم کیا اور میچ برابری پر ختم کرنے میں کامیاب رہے۔

ممکن ہے ان کی جگہ کوئی اور کمنٹیٹر ہوتا تو اسے بھی پہلی نظر میں یہی گمان گزرتا کہ اینڈرسن فیئر گیم نہیں کھیل رہے۔ لیکن کیا ہی بہتر رہتا کہ الزام جھاڑنے سے پہلے کسی ثبوت کا نہ سہی، کم از کم امپائر کے خیالات کا ہی انتظار کر لیا جاتا۔

اگر یہ تعصب نہیں تھا تو پھر کیا تھا جس کے سبب تین ریٹائرڈ جہاندیدہ ٹیسٹ کرکٹرز یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ بارش کے وقفوں میں گھرے میلبرن گراؤنڈ میں ایسا کیچڑ تھا جو گیند کی سیم میں گھس رہا تھا اور جسے نکالنے کے لیے گیند کو باؤنس کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ بھی ٹیمپرنگ کے زمرے میں آ سکتا تھا، تو ایسے میں اگر کیپر سے بولر تک گیند باؤنس دے کر پھینکا جائے تو کتنے قیراط بے ایمانی ثابت ہوتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جیمز اینڈرسن کے گیند صاف کرنے پر آسٹریلوی کمینٹیٹرز نے ان پر تنقید کی اور گیند کی شکل تبدیل کرنے کا شبہ ظاہر کیا

جب سعید اجمل پہ پابندی لگی تو آئن مورگن نے کہا کہ جس کی وجہ سے میرا ٹیسٹ کیرئیر ختم ہوا، اس کا بولنگ ایکشن ہی غیر قانونی نکلا۔ جب پچھلے سال انگلینڈ کو انڈیا میں شکست ہوئی تو اینڈرسن نے کوہلی پہ پھبتی کسی کہ وہ صرف ایشین وکٹوں پہ ہی بلے چلا سکتے ہیں۔ جب پاکستان انگلینڈ کے دورے پہ گیا تو مائیکل وان نے یاسر شاہ کو پہلے ہی آڑے ہاتھوں لیا اور 'نام نہاد نمبرون سپنر' کا لقب دیا۔

ایسی مثالوں سے ہماری کرکٹ کی تاریخ بھری پڑی ہے۔

سمجھ نہیں آتی کہ شرفا کا کھیل کہلانے والی اس گیم میں آخر ایسا کیا مسئلہ ہے کہ خود کرکٹرز بھی اپنے ہم جلیسوں کو اچھی پرفارمنس کی داد دینے کا ظرف نہیں رکھتے؟ بہترین سے بہترین سپیلز اور اعلیٰ سے اعلیٰ اننگز کو بھی ہمیشہ تعصب میں کیوں لپیٹ دیا جاتا ہے؟

اگر ٹی وی سیٹ توڑنے والے ناراض شائقین ایسی باتیں کریں تو پھر بھی کوئی تُک بنتا ہے لیکن جب کل کے لیجنڈز ہی آج کے ہیروز کو ہضم نہ کر پائیں تو کرکٹ کو سنجیدگی سے انہیں عرض کرنا ہو گی کہ اُس کے لیجنڈز اس پہ رحم کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں