اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ وغیرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کھانے کے وقفے سے پہلے آخری اوور کے لیے اظہر علی کو لایا گیا۔ گابا کی وکٹ پر آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ 53 رنز پر کھیل رہے تھے۔ اوور کی تیسری گیند پر سٹیو سمتھ کریز میں پھنس کر رہ گئے اور گیند بلے کے کنارے کو چھو کر سرفراز کی جانب گئی۔ سرفراز کے گلوز میں گرنے کے بعد گیند اچھلی اور کیچ ڈراپ ہو گیا۔

اس کے بعد سٹیو سمتھ نے سنچری بنا ڈالی اور سیریز کے پہلے میچ کی پہلی ہی اننگز میں پاکستان کا مورال اس قدر ڈاؤن کر دیا کہ اس کے بعد دورے کے باقی ماندہ 19 دن بھی پاکستان اٹھ نہیں پایا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ نے پاکستان کو ڈک ورتھ لوئس کے تحت 61 رنز سے ہرا دیا

'یہ امتحاں سرفراز کا نہیں ہے'

پہلے ایک روزہ میچ کی تصاویر

آج نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن 26 رنز کے انفرادی سکور پر کھیل رہے تھے۔ فہیم اشرف بولنگ کر رہے تھے۔ ولیمسن نے آف سٹمپ سے باہر جاتی گینڈ کو کھیلنے کے لیے بلا آْگے بڑھایا، گیند بلے کو چھو کر تیزی سے وکٹ کیپر کی جانب گئی۔ سرفراز نے بھرپور ڈائیو لگائی لیکن گیند ان کے ہاتھوں میں رک نہیں سکی اور یوں ولیمسن کا کیچ ڈراپ ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پھر وہ سنچری بنا گئے اور ویلنگٹن کی وکٹ پر ریکارڈ ہدف پاکستان کے سامنے رکھ دیا۔

اسی طرح سے سنہ 2011 کے ورلڈ کپ میں کامران اکمل نے جب راس ٹیلر کو چانس دیا تو ان کا سکور صفر تھا لیکن پھر وہی ٹیلر سنچری بنا گئے اور پاکستان اتنے ہی رنز سے میچ ہار گیا۔ انگلینڈ نے ایک بار وراٹ کوہلی کو 60 کے انفرادی سکور پر ڈراپ کیا تو وہی کوہلی 235 بنا گئے اور میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔

کیچز ڈراپ ہونا کوئی غیر فطری یا غیر انسانی عمل نہیں ہے۔ بڑے بڑے ایونٹس اور ٹائٹلز کا فیصلہ ایک ڈراپ کیچ یا ایک گنوایا موقع ہی کر دیتے ہیں۔

اب ذرا ایک لمحے کو تصور کیجیے کہ اگر اظہر علی کی اس گیند پر سٹیو سمتھ کیچ آوٹ ہو جاتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ آسٹریلیا اس اننگز میں 400 رنز کے قریب بھی پہنچ پاتا؟ اور جہاں چار دن بعد پاکستان وہ میچ 39 رنز سے ہارا اگر اس میں سے سمتھ کے ڈراپ ہونے کے بعد کے 87 رنز نکال دیجیے تو شاید وہیں پاکستان تین وکٹوں سے فاتح دکھائی دیتا۔

آج کے میچ کو ہی لیجیے۔ اگر ولیمسن 26 رنز پر آوٹ ہو جاتے تو کیا نیوزی لینڈ 315 رنز بنا پاتا؟ اور اگر یہیں پاکستان کے لیے 316 رنز کے ہدف کی بجائے 250 ہوتا تو کیا تب بھی پاکستان کا ٹاپ آرڈر اسی تخریب و انتشار کے عمل سے گزرتا؟ کیا تب بھی فخر زمان کی یہ شاندار اننگز رائیگاں جاتی؟ حسن علی کی تین وکٹیں یوں بے ثمر رہتیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اب ذرا رکیے اور دیکھیے کہ ولیمسن کا وہ کیچ ڈراپ ہونے سے پہلے کیا ہوا؟ اس سے چند ہی ثانیے پہلے سرفراز احمد اپنے ایک فیلڈر پر جھلاہٹ کا اظہار کر رہے تھے جن کا تھرو درست نہ ہونے کے سبب ایک کی بجائے دو رنز بن گئے اسی مظہر کو سامنے رکھتے ہوئے پچھلے سال اپریل کے دورۂ ویسٹ انڈیز کو ذہن میں لائیے۔

کامران اکمل تھرڈ مین پر فیلڈنگ کر رہے تھے۔ گیند ان کی جانب آئی تو وہ اس مستعدی سے فیلڈ نہیں کر پائے جو انٹرنیشنل فیلڈنگ کا معیار ہوتی ہے۔ بہرحال جیسے تیسے انھوں نے فیلڈ کر کے سرفراز کی جانب تھرو پھینکا لیکن تب تک سرفراز جھلا چکے تھے اور اسی جھنجلاہٹ میں یہ بھول گئے کہ جس وقت تھرو ان کے ہاتھوں میں پہنچا تب تک بیٹسمین کریز میں داخل نہیں ہوا تھا اور اگر جھنجلاہٹ کی بجائے ان کی توجہ سٹمپس پر مرکوز ہوتی تو وہ رن آوٹ ہو سکتا تھا۔

اور پھر پاکستان وہ میچ بھی ہار گیا۔

آج کے میچ کو دیکھا جائے تو کئی ایک اگر، مگر، چونکہ اور چنانچہ نظر آتے ہیں۔ اگر بارش نہ ہوتی؟ اگر ہوا اتنی تیز نہ ہوتی؟ اگر وہ تھرو لیٹ نہ ہوتا؟ اگر وہ کیچ ڈراپ نہ ہوتا؟ اگر فخر زمان 20 گیندیں اور کھیل جاتے؟ اگر اظہر اس گیند سے بچ جاتے؟ اگر ایسا ہو جاتا، اگر ویسا ہو جاتا، تو شاید پاکستان اپنی ون ڈے فتوحات کا ردھم برقرار رکھ پاتا۔

لیکن ان تمام اگر، مگر، چونکہ اور چنانچہ میں سب سے زیادہ تکلیف دہ ’اگر‘ ہے ولیمسن کی یہ سنچری۔ اگر ولیمسن سنچری نہ کرتے تو یقینا پاکستان کو اتنے اگر مگر نہ سوچنا پڑتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں