سٹراس کے سنہرے خواب اور روٹ کے شکستہ اعصاب

جو روٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

1992 کے ورلڈ کپ میں عمران خان نے جب پہلی بار پاکستان کے لیے عالمی ٹائٹل جیتا تھا، تو رنر اپ ٹیم انگلینڈ تھی۔ اس لمحے کو گزرے قریب چھبیس برس ہو چکے ہیں لیکن انگلینڈ ون ڈے کے عالمی ٹائٹلز کی دوڑ میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پایا۔ بلکہ ہر بار کئی قدم پیچھے ہی گیا ہے۔ 2015 کا ورلڈ کپ گویا انگلش کرکٹ کے لیے آخری وارننگ تھا۔

2015 کے ورلڈ کپ میں جب انگلینڈ کسی بھی فل ممبر کے خلاف نہیں جیت پایا تو انگلش کرکٹ بورڈ نے اس پہ خاصی سنجیدگی دکھائی۔ منیجمنٹ میں وسیع پیمانے پہ تبدیلیاں ہوئیں، اور یوں انگلش کرکٹ کلچر کو از سر نو وضع کرنے کا خواب دیکھا گیا۔ نہ صرف اس خواب کی تشکیل، بلکہ تعبیر کی ذمہ داری بھی اینڈریو سٹراس کو سونپ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

’آپ کا مقابلہ بارہویں کھلاڑی سے نہیں‘

’آپ کا مقابلہ بارہویں کھلاڑی سے نہیں‘

سٹیو سمتھ گارفیلڈ سوبرز کے برابر

پنہاں خواہش یہ تھی کہ اینڈریو سٹراس بطور کپتان اور پلیئر جیسے جارح مزاج واقع ہوئے تھے، ویسا ہی کچھ انگلش کرکٹ کلچر میں بھی نمایاں ہو جائے۔ بجائے خود یہ فیصلہ غلط نہیں تھا، کیونکہ انگلش کرکٹ کو اگر مختصر فارمیٹ میں کچھ حاصل کرنا تھا تو سٹراس سے بہتر انتخاب کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ نہ ہی حالیہ شیڈول سے بہتر کوئی موقع، جہاں چیمپئینز ٹرافی ہی نہیں، ورلڈ کپ 2019 کی میزبانی بھی انگلینڈ کے پاس ہے۔

ایسے میں انگلش کرکٹ یہ سوچنے میں حق بجانب تھی کہ اس بار تمام ستارے ان کے موافق جا رہے تھے۔ سٹراس کے سنہرے خواب سے جن تبدیلیوں کا آغاز ہوا، ان کے مثبت اثرات انگلینڈ کے پچھلے ڈھائی سال کے ریکارڈ سے عیاں ہیں۔ مختصر فارمیٹ میں تو انگلش ٹیم کا ارتقا اس نہج پہ پہنچ چکا تھا کہ گزشتہ چیمپئینز ٹرافی میں انگلینڈ کو ہاٹ فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا۔ ابھی بھی تمام حالیہ واقعات سے قطع نظر، آئندہ ون ڈے ورلڈ کپ کے لئے انگلینڈ ہی فیورٹ ٹیم دکھائی دیتی ہے۔

لیکن اس نئی پہچان کی کھوج میں سٹراس کو یہ بھولنا پڑا کہ انگلینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ کس حال میں ہے۔ گزشتہ سال انڈیا کے دورے پہ وائٹ واش یہ واضح کرنے کو کافی تھا کہ نامانوس کنڈیشنز میں انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کس قدر قابل رحم حالت کو پہنچ جاتی ہے۔ مگر اس سنجیدہ مسئلے کا حل بھی غیر پیشہ وارانہ تصنع سے نکالا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مہینوں ماراماری کے بعد بدلاو آیا تو صرف اتنا کہ الیسٹر کک کو ہٹا کر جو روٹ کو قیادت کی لاٹھی تھما دی گئی کہ وہ اپنے کرکٹنگ وزڈم سے کوئی ایسا رستہ کھوج لائیں جس پہ چلنے سے سٹراس کا سنہرا سپنا بھی محفوظ رہے اور برسہا برس پرانا انگلش ٹیسٹ کلچر بھی پھلتا پھولتا رہے۔

اصل مسئلہ کہاں تھا، کیوں تھا اور کب سے تھا، اس کو کسی عرق ریزی کا مستحق نہیں سمجھا گیا۔ کاونٹی کرکٹ کے گرد گھیرا اور تنگ کر دیا گیا۔ اور پورے ملک کی تمام تر توانائیاں صرف ایک سمت میں مرکوز ہو کر رہ گئییں، مختصر فارمیٹ میں اوج ثریا کا حصول۔

اگرچہ اسے سٹراس کی موجودگی سے نتھی کرنا بالکل بجا نہ ہو گا لیکن حسن اتفاق بہر حال اپنے تئیں موجود ہے کہ اس سنہرے خواب کی بھینٹ چڑھنے والوں میں ایان بیل، کولنگ ووڈ اور کیون پیٹرسن جیسے بھی تھے۔ اگرچہ مختصر فارمیٹ میں ارتقا کے لئے یہ بھینٹ ناگزیر تھی لیکن طویل دورانئے کی کرکٹ میں یہ آج بھی ایک ناقابل فہم عقدہ ہے کہ اگر انگلش کرکٹ اتنے سال میں صرف جیمز ونس جیسی پراڈکٹس ہی تیار کر سکی ہے تو تین مسلمہ ٹیسٹ کرکٹرز کو بھگانے کی اتنی جلدی کیوں تھی۔

اس صدی کے آغاز سے اب تک ہونے والی تمام ایشز میں یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ سیریز تھی۔ پچیس دن پہ محیط کرکٹ میں صرف چار پانچ روز ہی انگلش ٹیم میں کوئی دم خم نظر آیا۔ وگرنہ ایسا لگتا تھا کہ کسی مخبوط الحواس الیون کو زبردستی گھر سے بھیج دیا گیا ہے اور ان پہ یہ لازم ٹھہرا دیا گیا ہے کہ تمام علائق سے منہ موڑے، سر نیہوڑائے، خود کو آسٹریلوی ٹیم کے رحم و کرم پہ چھوڑے رکھیں۔

ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ اس اعصاب شکن ہزیمت پہ سٹراس اپنے خواب میں کسی ردوبدل کا سوچیں گے، نہ ہی یہاں کسی انقلابی تبدیلی کی گنجائش باقی ہے۔ کپتان پہلے ہی نوآموز ہے۔ کوچ پہ اگر ملبہ ڈالیں گے تو پھر مختصر فارمیٹ کی کایا کلپ کا کریڈٹ کہاں جائے گا۔

فی الوقت سٹراس کو صرف جو روٹ سے ہمدردی کرنا چاہیے جو اپنے شکستہ اعصاب سے سٹراس کے سنہرے خواب کی قیمت چکا رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں