سکواش:پاکستان کی بدترین کارکردگی

Image caption پاکستان نےپہلے کبھی سکوائش میں اس سے بدترین کا کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا

ورلڈ ٹیم سکواش چیمپئن شپ میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم ڈنمارک سے ہارگئی۔

اس شکست کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم عالمی ایونٹ سے عملاً باہر ہوگئی ہے اور اسے رسمی کارروائی پوری کرتے ہوئے سترہویں پوزیشن سے نیچے کے کوالیفکیشن میچز کھیلنے ہونگے۔

ظاہر ہے پاکستان کی جو بھی پوزیشن آئے گی وہ 1967ء میں کھیلی گئی اولین ورلڈ ٹیم سکواش چیمپئن شپ کے بعد اس کی سب سے خراب کارکردگی ہوگی جس میں چھ ٹیموں میں اس کا نمبر آخری رہا تھا لیکن1977ء میں عالمی چیمپئن شپ پہلی مرتبہ جیتنے کے بعد اس کی سب سے مایوس کن کارکردگی 1999ء میں مصر میں رہی تھی جب اس نے بارہویں پوزیشن حاصل کی تھی۔

اس بار عالمی ایونٹ میں پاکستان کی بارہویں سیڈنگ تھی جبکہ گزشتہ ورلڈ چیمپئن شپ میں اس نے پانچویں پوزیشن حاصل کی تھی لہذا ڈنمارک جیسی اسکواش کی دنیا میں طفل مکتب ٹیم کےہاتھوں شکست پاکستانی اسکواش کے کرتادھرتاؤں کے لئے کسی رسوائی سے کم نہیں۔

جرمنی میں ہونے والی اس عالمی ٹیم اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی عامر اطلس، یاسر بٹ، ناصر اقبال اور وقارمحبوب نے کی۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جو کافی عرصے سے انٹرنیشنل سرکٹ کا حصہ ہیں۔

پاکستان میں سکواش کی باگ ڈور پاکستان ائرفورس کے ہاتھوں میں ہے۔ پاک فضائیہ کا سربراہ پاکستان سکواش فیڈریشن کا سربراہ ہوتا ہے ۔ظاہر ہے بے پناہ عسکری مصروفیات کے سبب وہ اسکواش پر مکمل توجہ نہیں دے سکتے لہذا فیڈریشن کے سینئر نائب صدر کے طور پر کسی ائرمارشل یا ائروائس مارشل کی تقرری ہوتی ہے اور سیکرٹری کے لئے بھی کسی اسکواش سمجھنے والے پروفیشنل کے بجائے ائرفورس سے ہی تقرری کی جاتی ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہےکہ پاکستان اسکواش فیڈریشن کی اعلی قیادت کا ذرائع ابلاغ سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔سینئر نائب صدر ائروائس مارشل رضی نواب اسکواش سے متعلق کوئی بھی بات ریکارڈ کرانے کے لئے تیار نہیں جبکہ سیکرٹری ونگ کمانڈر عرفان اصغر منیجر بن کر ٹیم کے ساتھ جرمنی میں ہیں لہذا ورلڈ اسکواش چیمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے جو کارکردگی دکھائی ہے اس پر فیڈریشن کا موقف سامنے نہیں آسکتا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ عالمی چیمپئن شپ جیسے اہم مقابلے میں پاکستان سکواش فیڈریشن نے کسی کوچ کو کھلاڑیوں کے ساتھ بھیجنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ماضی قریب میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ منیجر ہی کوچ بن کر کھلاڑیوں کو ہدایتیں دیتے رہے ہیں۔

عظیم جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ اس کارکردگی کے بعد پاکستان اسکواش فیڈریشن کے عہدیداروں کو شرم کے مارے خود ہی گھر چلے جانا چاہئے۔

جہانگیر خان کہتے ہیں کہ گزشتہ دنوں فیڈریشن کی غلطی کے سبب پاکستان پہلی مرتبہ ورلڈ جونیئر ایونٹ میں شرکت سے محروم رہا۔ سیکریٹری کا کام دفتری امور چلانا ہوتا ہے منیجر بن کر دورے کرنا نہیں۔ دراصل یہ ان کی لاٹری کھلی ہوئی ہے۔

پاکستان سکواش فیڈریشن سے طویل عرصے سے وابستہ رہنے والے سابق عالمی چیمپئن قمر زمان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن نے کھلاڑیوں کو سہولتیں فراہم کررکھی ہیں لیکن کھلاڑی محنت نہیں کرتے ۔ ورلڈ ٹیم ایونٹ میں جو کچھ ہوا ہے اس کے ذمہ دار کھلاڑی ہیں۔

اسی بارے میں