میسی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Unknown
Image caption کولکتہ کے خواص پر بھی میسی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ کو اگر بھارتی فٹ بال کا ’مکہ‘ کہا جاتا ہے تو فٹ بال کے شائقین کی نظر میں ارجنٹائن کے کھلاڑی ليونل میسی کا درجہ جدید فٹ بال کے ’بھگوان‘ سے کم نہیں ہے۔

اب یہ ’بھگوان‘ اگر ان کے اپنے شہر میں اتر آئے تو فٹبال کے ان بھارتی شائقین کی دیوانگی اور شہر کے ماحول کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے۔

میسی فیفا کی جانب سے منعقد کردہ دوستانہ میچ کھیلنے کے لیے کولکتہ آئے ہیں اور ان کی قیادت میں ارجنٹائن کی ٹیم جمعہ کو سالٹ لیك سٹیڈیم میں وینزویلا سے ایک دوستانہ میچ کھیلے گی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ دنیائے فٹبال کا کوئی بین الاقوامی ستارہ کولکتہ آیا ہو۔ اس سے پہلے برازیل کے عظیم کھلاڑی پیلے نے سنہ 1977 میں امریکہ کے كاسموس کلب کی ٹیم کی جانب سے مقامی کلب موہن باگان کے خلاف نمائشی میچ کھیلا تھا۔

اس کے علاوہ جرمن گول کیپر اولیور کان نے بھی سنہ 2008 میں بائرن میونخ کی طرف سے یہاں اپنا آخری میچ کھیلا تھا۔ اس کے بعد ارجنٹائن کے ڈیاگو میراڈونا بھی کولکتہ کے اس سٹیڈیم میں آئے تھے اورگزشتہ سال ڈیوڈ فورلان نے بھی یہاں اپنے پیروں کا جادو دکھایا تھا۔

لیکن کولکتہ کی نوجوان نسل کے لیے میسی سے بڑا سٹار شاید کوئی نہیں ہے۔

ایک ابھرتے ہوئے مقامی فٹبالر سوپن دت کہتے ہیں، ’اس سٹیڈیم میں میسی کو کھیلتے دیکھنا ایک خواب کے سچ ہونے کی طرح ہے۔ وزیرِ کھیل نے کہا ہے کہ 40 کروڑ کی لاگت سے اس سٹیڈیم کی مرمت کی گئی ہے۔ یہ ہمارے لیے اچھا ہے۔ ہمیں اس سے اپنا کھیل بہتر بنانے میں کافی مدد ملے گی‘۔

میسی بدھ کی صبح کولکتہ پہنچے تھے اور ان کے ہزاروں مداح رات دو بجے سے ہی نیتاجی سبھاش چندر ایئرپورٹ پہنچنے لگے تھے۔

Image caption کولکتہ کی نوجوان نسل کے لیے میسی سے بڑا سٹار شاید کوئی نہیں

اس موقع پر بارش کے باوجود مداحوں کا جوش کم نہیں ہوا۔ وہ ناچ رہے تھے اور میسی کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔ کچھ نے میسی کے پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے۔

مداحوں کا اتنا ہجوم دیکھنے کے بعد میسی اور بارسلونا کے ان کے ساتھی ہاویئر میسکرانو اور وینزویلا کے تین کھلاڑیوں کو سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان ایئرپورٹ سے باہر نکالا گیا۔

میسی کے مداح گوتم داس کہتے ہیں، ’میسی کا یہاں کھیلنے آنا کولکتہ کے لیے ایک کارنامہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم جب میں فٹ بال کے ’بھگوان‘ کو یہاں کھیلتا دیکھوں گا تب کیا ہوگا‘۔

عام تو عام کولکتہ کے خواص پر بھی میسی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور جمعہ کو ریاستی کابینہ کا جو اجلاس منعقد ہونا تھا وہ ایک دن پہلے ہی بلا لیا گیا۔ اس کے علاوہ گورنر ایم کے نارائنن اور وزیرِاعلٰی ممتا بنرجی کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ملاقات بھی ملتوی کر دی گئی ہے۔

اس میچ کو دیکھنے کے لیے بھارتی فلمی صنعت کی کئی مشہور ہستیاں بھی کولکتہ پہنچ رہی ہیں جن میں ان میں اداکار رنبیر کپور ، دیا مرزا اور ڈائریکٹر انوراگ كشيپ سرِ فہرست ہیں۔

میسی کے کولکتہ پہنچنے کے بعد اس میچ کے ٹکٹوں کی فروخت بھی تیز ہو گئی ہے۔ ان ٹکٹوں کی قیمت سات سو سے پانچ ہزار روپے تک ہے لیکن مداحوں کو اس کی پرواہ نہیں ہے۔ ایک فٹ بال مداح سومناتھ کہتے ہیں ، ’میں میسی کی ایک جھلک پانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ میں یہ میچ ضرور دیکھوں گا‘۔

میچ کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی لوگوں کا جوش اور اس کے ساتھ میچ کے ٹکٹوں کی فروخت بڑھتی ہی جا رہی ہے اور منتظمین کو امید ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار افراد یہ میچ دیکھنے آئیں گے۔

یہ دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ دو ستمبر کو کولکتہ کے تمام راستے سالٹ لیك سٹیڈیم کی طرف جاتے ہی نظر آئیں گے اور صرف کولکتہ ہی نہیں بلکہ پوری ریاست میسی کے حق میں نعروں سے گونج اٹھے گا۔

اسی بارے میں