ہاکی کھلاڑیوں نے انعام کی رقم ٹھکرائی

بھارتی ہاکی ٹیم
Image caption کھلاڑی انعام کی رقم سے خوش نہیں ہیں

چین میں ایشین چمپیئنز ٹرافی جیتنے کے بعد بھارتی ہاکی ٹیم ملک واپس آئی تو اسے پچیس ہزار روپے کا انعام دیا گیا جسے کھلاڑیوں نے مسترد کردیا ہے۔

بھارتی ٹیم جب ملک واپس آئی تو فائنل میچ میں پاکستان کے ساتھ کامیابی کی وجہ سے اس کا زبردست استقبال کیا گيا اور کھیل کے وزیر اجے ماکن نے ٹیم کے ہر کھلاڑی کو پچیس پچیس ہزار روپے بطور انعام دینے کا اعلان کیا۔

لیکن کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اس دور میں پچیس ہزار روپے کی رقم کی کوئي اہمیت نہیں ہے اور حکومت کا یہ قدم ان کے لیے بہت مایوس کن ہے اس لیے وہ اسے نہیں قبول کریں گے۔

بھارتی ٹیم کے کپتان راج پال سنگھ نے نجی ٹی وی چینلز سے بات چیت کرتے ہوئے وزارت کھیل کی جانب سے اتنی رقم کی پیش کش کو مایوس کن بتایا اور کہا کہ اگر اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں ٹیم ملک کے لیے کھیلتی رہے گي لیکن اس طرح کے اقدامات سے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ایشیئن ٹرافی جیتنے کے باوجود کھلاڑیوں کو انعامات سے محروم رکھا گیا ہے۔

کپتان کا کہنا تھا ’وزیر کھیل ہماری امیدوں پر کھرا نہیں اترے ہیں۔ انعام کی رقم ایسی ہونی چاہیے جس سے کہ نا صرف موجودہ کھلاڑی بلکہ آنے والی نسلیں بھی ہاکی طرف متوجہ ہوں‘۔

ملک کے کئی سابق اور سینیئر کھلاڑیوں نے بھی حکومت کے اس اعلان پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاکی جیسا بھارتی روایتی گیم اسی وجہ سے زوال پذیر ہے کیونکہ اس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور کرکٹ جیسے کھیل پر سبھی کی نظریں ہیں۔

سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ کھلاڑیوں کو تو اہم ٹورنا منٹ جیتنے پر کروڑوں روپے دیے جاتے ہیں اور دوسرے کھیلوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں