فاٹا اولمپکس ایسوسی ایشن کا قیام

Image caption اعصام الحق کو اعزازی ممبرشپ دی گئی

دہشت گردی سے متاثرہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کھیلوں کے فروغ کےلیے پہلی مرتبہ فاٹا اولمپکس ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ تنظیم کو پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے الحاق کردیا گیا ہے۔

پیر کو گورنر ہاؤس پشاور میں فاٹا اولمپکس ایسوسی ایشن کا ایک اعلیٰ سطح اجلاس گورنر خیبر پختون خوا بیرسٹر مسعود کوثر کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر برائےسیفران اور فاٹا اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر انجنئیر شوکت اللہ خان اور دیگر اعلٰی سرکاری اہلکاروں نے شرکت کی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر شوکت اللہ خان نے گورنر کو فاٹا اولمپکس ایسوسی ایشن کی تنظیم نو اور قبائلی علاقوں میں کھیلوں کے فروغ کےلیے جاری کوششوں اور منصوبوں سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر پشاور کے دورے پر آئے ہوئے پاکستان کے صف اول کے ٹینس کھلاڑی اعصام الحق نے بھی خصوصی طورپر فاٹا اولمپکس ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت کی۔ گورنر نے عصام الحق کو فاٹا اولمپکس ایسوسی ایشن کی اعزازی رکنیت دینے کا اعلان بھی کیا۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اس بات کی کوئی بنیاد ہی نہیں کہ قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا کے عوام دہشت گرد ہیں یا ان کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ سب کو معلوم ہے کہ کون دہشت گرد ہے اور کون اس کی ترویج کرتے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ فاٹا اور خیبر پختون خوا نے ہر شعبہ زندگی، ڈرامہ، ادب، کھیل، سیاست، فنون لطیفہ الغرض ہر پیشے میں بڑے بڑے نام پیدا کئے ہیں۔

بیرسٹر مسعود کوثر کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں اولمپکس ایسوسی ایشن کا قیام اور پھر اسے پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے ساتھ الحاق کرنے سے فاٹا کو کھیل کے میدان میں قومی دھارے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے نوجوان کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔

اس سے قبل صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر شوکت اللہ خان نے کہا کہ فاٹا اولمپکس ایسوسی ایشن آئندہ قومی کھیلوں میں فاٹا کے کھلاڑیوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس مقصد کےلیے قبائلی علاقوں کے کھلاڑیوں کا ایک باصلاحیت دستہ مرتب کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کےلیے ایک الگ سپورٹس کمپلیکس کے قیام کےلیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

پاکستان میں ٹینس کے قومی ہیرو اعصام الحق نے کہا کہ وہ پشاور میں ٹینس کلب دیکھنے آئے ہیں جو پاکستان کا واحد ٹینس کلب ہے جس کا افتتاح قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ ٹینس کلب کی حالت تو دیکھنے کے قابل نہیں لیکن ان کی کوشش ہے کہ اس کو دوبارہ بحال کیا جائے اور پھر سے یہاں ٹینس کے ملکی اور بین الاقوامی مقابلے منعقد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چھ سال پہلے وہ پشاور میں ڈیوس کپ کھیلنے آئے تھے لیکن اب یہاں کوئی سپورٹس نہیں ہورہی بلکہ پورے پاکستان میں یہی حال ہے جس سے انتہائی دکھ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پر بیرونی دنیا میں جو مہر لگی ہے کہ یہاں دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اس کو ہم سب نے مل کر تبدیل کرنا ہوگا اور اس کےلیے کھیل بہترین ذریعہ ہے۔