’قوانین کی غلطی ساری عمر یاد رہتی ہے‘

علیم ڈار
Image caption علیم ڈار مسلسل تین بار آئی سی سی ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں

بہترین امپائر کا آئی سی سی ایوارڈ مسلسل تیسرے سال حاصل کرنے والے علیم ڈار کا کہنا ہے کہ لوگ میدان میں امپائر کے غلط فیصلے تو بھول جاتے ہیں لیکن اگر ان سے قوانین کی غلطی سرزد ہوجائے تو وہ ساری عمر یاد رکھتے ہیں۔

علیم ڈار آئی سی سی ایوارڈ حاصل کرکے لندن سے فوراً سری لنکا واپس پہنچے ہیں جہاں وہ آسٹریلیا اور سری لنکا کے درمیان ٹیسٹ سیریز میں امپائرنگ کررہے تھے۔

علیم ڈار نے کولمبو سے بی بی سی کو دیےگئے انٹرویو میں کہا کہ کسی بھی امپائر کے لیے صرف میدان میں درست فیصلے دینے ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ قوانین پر بھی اسے مکمل عبور ہوناچاہئے اور کھیل پر کنٹرول بھی بہت ضروری ہے۔

علیم ڈار نے کہا کہ اچھا امپائر وہ ہے جو اگر غلطی کرے تو اس کے بعد اس جانب زیادہ نہ سوچے کیونکہ ایسی صورت میں کھیل پر اس کی گرفت نہیں رہتی اور وہ ایک کے بعد ایک غلطیاں کرنے لگتا ہے اور یہ چیز اس کے خلاف چلی جاتی ہے۔

علیم ڈار نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ میچز میں امپائرنگ کرنے سے امپائر کے تجربے میں اضافہ ضرور ہوتا ہے لیکن کرکٹر کی طرح امپائر کا کریئر بھی فٹنس سے مشروط ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمر کے ساتھ ساتھ بینائی میں بھی فرق آتا ہے اور سارا دن فیلڈ میں رہنے کی ہمت بھی جواب دینے لگتی ہے لہذا امپائرنگ کے لیے ذہنی اور جسمانی فٹنس بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

علیم ڈار برملا سائمن ٹافل اور اپنے سر اس بات کا سہرا باندھتے ہیں کہ ان کی وجہ سے اب کم عمر امپائرز بھی بین الاقوامی کرکٹ کا حصہ بن رہے ہیں۔

Image caption ایشیز سیریز میں بہترین کارکردگی کے لیے انہیں سرہا گيا

انہوں نے کہا کہ جب وہ اور سائمن ٹافل امپائرنگ میں آئے تھے تو تمام ہی امپائرز بڑی عمر کے تھے اور جونیئر امپائرز بہت کم تھے۔ لیکن اب کم عمر امپائرز بھی سامنے آئے ہیں جن میں سری لنکا کے دھرما سینا اور رابرٹ کیٹل برو شامل ہیں۔

علیم ڈار بہت زیادہ ’ فرینڈلی امپائر‘ ہونے کے حق میں نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں سے بہت زیادہ ہنسی مذاق نہیں ہونا چاہئے لیکن دوستانہ انداز میں ان سے بات چیت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

علیم ڈار تسلیم کرتے ہیں کہ اس سال انہیں ملنے والے ایوارڈ کی ایک بڑی وجہ ایشیز سیریز کے دوران ان کی امپائرنگ تھی۔

علیم ڈار کا کہنا ہے کہ ایشز، عالمی کپ سے بھی زیادہ مشکل سیریز ہے۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے میچز میں بھی امپائرنگ آسان نہیں ہوتی۔

وہ اس لحاظ سے مطمئن ہیں کہ آخری دو ایشز میں ان کی کارکردگی اچھی رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ کونسی ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔ وہ امپائرنگ کو صرف ایک گیند کا کھیل سمجھتے ہیں کہ اگر اس گیند سے نظر ہٹ گئی تو فیصلہ بھی درست نہیں ہوسکتا۔

علیم ڈار کہتے ہیں کہ میدان میں ان کی توجہ صرف اس وقت ہٹتی ہے جب بیٹسمین کا شاٹ ان کے قریب سے گزرجائے تو اس وقت احساس ہوتا ہے کہ یہ گیند ان کےلیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی تھی جیسا کہ سچن تندولکر کا بولر بیک ڈرائیو ان کے بالوں کو چھوکرگیا۔ اسی طرح یوراج سنگھ اور فلنٹوف کے تیز شاٹس سے بھی وہ بال بال بچے۔

علیم ڈار کا کہنا ہےکہ اسکوائر لیگ سے وہ اچھی بیٹنگ اور بولنگ سے ضرور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن جب کریز پر ہوتے ہیں تو پھر تمام تر توجہ اپنے فیصلوں پر ہوتی ہے۔

علیم ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ امپائرنگ میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ اچھے اور اہم میچز ٹی وی پر دکھائے جائیں جیسا کہ بھارت میں ہورہا ہے۔ اس سے امپائرز کواپنی کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔

اس وقت پاکستان میں کئی باصلاحیت امپائرزموجود ہیں لیکن یہاں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے کے سبب انہیں مواقع نہیں مل رہے ہیں۔

اسی بارے میں