دعا ہے شعیب کتاب سے پیسہ بنا لیں: وقار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ وقار یونس کی دعا ہے کہ شعیب اختر اپنی کتاب ’ کنٹروورشلی یورز‘ سے جتنے بھی پیسے بنا سکتے ہیں بنا لیں کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔

وقار یونس کا یہ دلچسپ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب ان سے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں رابطہ کیا گیا اور حال ہی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ختم کردہ کوچنگ کی ذمہ داری کی بابت ان سے بات کی لیکن’ کنٹروورشلی یورز‘ نے گفتگو کا موضوع ہی بدل دیا۔

تندولکر میری بالنگ سے ڈرتے تھے: شعیب

وقار یونس کا کہنا تھا کہ’ کتاب کا نام ہی نہیں بلکہ شعیب اختر کا پورا کیرئر ہی سب کچھ بتا دیتا ہے کہ یہ کتاب پڑھنی چاہیے یا نہیں۔اس کی کوئی اہمیت ہے یا نہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وقار یونس کا کہنا ہے’ اس کتاب میں اگر میرے بارے میں کچھ لکھا بھی ہے تب بھی میں اس کا اس لیے جواب نہیں دوں گا کہ میں کچھ کہوں گا پھر وہاں سے کوئی جواب آئےگا اور میں زبانی جنگ کے حق میں نہیں ہوں۔‘

وقار یونس کا کہنا تھا کہ’میری دعا ہےکہ شعیب اختر اس کتاب سے بہت سارا پیسہ بنائیں کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔‘

کتاب میں بال ٹیمپرنگ کے اعتراف کے ضمن میں وقار یونس سے سوال پوچھا کہ کیا اس کے نتیجے میں پاکستانی بولرز کو پہلے سے زیادہ شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جائے گا؟

وقاریونس کا جواب تھا’پچھلے کئی برسوں سے کسی بھی امپائر اور کسی بھی میچ ریفری نے پاکستانی بولرز پر اعتراض نہیں کیا لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ تشویش کی کوئی بات ہے۔‘

کیا بال ٹیمپرنگ کو قانونی حیثیت دی جا سکتی ہے جیسا کہ شعیب اختر اور کچھ اور سابق بولرز کا خیال ہے؟ وقار یونس نے کہا ’ کسی غیرقانونی عمل کو قانونی حیثیت کیسے دی جا سکتی ہے کیونکہ یہ ایک جینٹلمین گیم ہے اور اب یکم اکتوبر سے اننگز میں دو گیندوں کے استعمال کا نیا قانون متعارف ہوا ہے جس سے اگر کسی کو کوئی مسئلہ تھا وہ بھی ختم ہوجائے گا۔‘

وقاریونس نے’ کنٹروورشلی یورز‘ سے گفتگو کا رخ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کی طرف موڑتے ہوئے اپنی ذمہ داری پر اطمینان ظاہر کیا’ کارکردگی اور نتائج سے میں مطمئن ہوں۔چونکہ پاکستان میں کرکٹ نہیں ہو رہی ہے لہٰذا نئے کھلاڑی ملک سے باہر ہونے والی سیریز میں آزمائے گئے اور مجھے خوشی ہے کہ جس کھلاڑی نے بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اسے موقع دیا گیا۔‘

’مجھے صرف اس بات کا افسوس ہے کہ خراب صحت کے سبب کوچنگ چھوڑنی پڑی ہے کیونکہ ڈاکٹرز نے زیادہ دباؤ سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے لیکن اسی کرکٹ سے تعلق برقرار رکھنا ہے لہٰذا کچھ وقت کمنٹری کے بعد دوبارہ کوچنگ کے بارے میں سوچوں گا۔‘

وقار یونس سے ایک سوال کہ انتخاب عالم کی جو ٹور رپورٹ میڈیا کی زینت بنی اس میں مبینہ طور پر آپ کو ایروگینٹ یعنی بددماغ کہا گیا ہے کیا واقعی آپ ایسے ہیں؟

اس سوال پر قہقہہ بلند کرتے ہوئے سابق کوچ بولے’اگر ایروگینسی سے اچھے نتائج آتے ہیں تو یوں پھریہ بری چیز نہیں ہے اور اگر پاکستانی ٹیم کی بہتری کے لیے انہیں سختی کرنی پڑی تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن میں اس طرح کا شخص کبھی نہیں رہا ہوں۔ میں نے بحیثیت کوچ پوری کوشش کی کہ دیانت داری اور محنت سے کام کیا جائے۔اپنی سوچ کے حساب سے میں جو کر سکتا تھا وہ کرنے کی کوشش کی اور اس میں میں کافی حدتک کامیاب بھی رہا۔‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ سے آخری سوال یہ تھا کہ ان اطلاعات میں کہاں تک صداقت ہے کہ مصباح الحق سے بھی آپ کی نہیں بنی؟

وقار یونس نے اس پر کہا’مصباح اور میں دونوں سمجھ دار ہیں اور ہم دونوں میں بہت ہم آہنگی رہی۔ اول تو ایسی کوئی بات نہیں تھی اور اگر کسی بات پر اختلاف رائے ہوا بھی ہوتا تو اس کی کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوتی کہ ہم اسے میڈیا میں نہیں لاتے۔‘

اسی بارے میں