ایک روزہ کرکٹ کے قوانین میں تبدیلیاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئی سی سی نے رواں برس جون میں اعلان کیا تھا کہ نئے قوانین کا نفاذ یکم اکتوبر سے ہو گا

کرکٹ کی گورننگ باڈی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ایک روزہ میچوں کے قوانین میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہو گا۔

نئے قوانین کے مطابق ایک روزہ میچوں کے دوران زخمی ہونے والے بلے باز کی جگہ رنر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

نئے قوانین کے مطابق اب ایک روزہ میچوں کے دوران وکٹ کے دونوں اینڈز سے نئی گیند استعمال ہو گی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ایک روزہ میچوں میں چونتیس اوورز کے بعد گیند تبدیل کی جاتی تھی۔

آئی سی سی نے رواں برس جون میں اعلان کیا تھا کہ نئے قوانین کا نفاذ یکم اکتوبر سے ہو گا۔

تاہم کرکٹ کی گورننگ باڈی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کرکٹ کے قوانین کا انتظام پہلے کی طرح میری لی بون کرکٹ کلب ہی کرے گی جس کے لیے قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

آئی سی سی کے مطابق کرکٹ قوانین میں تبدیلی صرف ایک روزہ میچوں کے لیے ہے تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں رنرز استعمال کیے جا سکیں گے۔

آئی سی سی کے مطابق ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کے دوران پہلا لازمی پاور پلے کے قانون میں جو دس اوورز پر مشتمل ہوتا ہے اور اننگز کے آغاز میں استعمال کیا جاتا ہے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

تاہم دوسرے دو پاور پلیز جو پانچ پانچ اوورز پر مشتمل ہوتے تھے اور جنہیں فیلڈنگ اور بیٹنگ سائیڈ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتی تھیں ان میں تبدیلی کی گئی ہے۔

آئی سی سی کے مطابق اب ان دونوں پاور پلیز کا استعمال لازمی طور پر سولہویں اور چالیسویں اوورز کے درمیان کرنا ہو گا۔ تاہم ان کا اطلاق چالیس اوورز سے کم ایک روزہ بین الاقوامی میچوں پر نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ سنہ انیس سو بانوے کے کرکٹ کے عالمی کپ کے دوران وکٹ کے دونوں اینڈز سے نئی گیند کا استعمال کیا گیا تھا۔

نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی بلے باز رن آؤٹ ہونے سے بچنے کے لیے اپنی سمت میں تبدیلی کرے یا فیلڈر کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا تو اسے آؤٹ قرار دیا جائے گا۔

نئے قوانین کے مطابق اب بالر گیند کرانے سے پہلے نان سٹرائیکر بلے باز کو رن آؤٹ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

آئی سی سی کے نئے قوانین کے مطابق اگر امپائر سمجھے کہ ٹیسٹ میچ کا نتیجہ نکل سکتا ہے تو کھانے یا چائے کے وقفہ کو پندرہ منٹ تک لیٹ کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح اگر کسی ٹیم کے نو کھلاڑی آؤٹ ہو چکے ہوں تو اس صورت میں کھانے کے وقفے کو بھی آدھے گھنٹے تک لیٹ کیا جا سکتا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق ایک روزہ بین الاقوامی میچ کی ایک اننگز کے خاتمے کے بعد ہونے والے وقفے کو بیس منٹ سے بڑھا کر تک تیس منٹ تک کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں