آصف اور عامر پر شک تھا:سلمان بٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’جان بوجھ کر نو بال پھینکنے کے مبینہ سودے کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے لندن کی عدالت میں کہا ہے کہ انہیں شک تھا کہ ان کے ساتھی کھلاڑی محمد آصف اور محمد عامر سٹے بازي میں ملوث ہیں۔

سدن کراؤن کورٹ میں جاری سپاٹ فکسنگ مقدمے کی سماعت کے دوران سلمان بٹ نے کہا کہ میچ فکسنگ میں ان کے ملوث ہونے کا دعوی کر کے ان کے دوست اور ایجنٹ مظہر مجید نے انہیں دھوکہ دیا ہے.

سماعت کے دوران بٹ کو ان کے خلاف موجود ثبوت دکھائے اور سنائے گئے جس کے تحت ان پر سنہ دو ہزار دس میں انگلینڈ کے خلاف میچ فکسنگ کا الزام لگا ہے۔ اس کے جواب میں بٹ نے کہا کہ انہوں نے مظہر مجید کو سمجھنے میں بھول کی۔

سلمان بٹ نے بتایا کہ انہیں جان بوجھ کر نو بال پھینکنے کے مبینہ سودے کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔ ان کے علاوہ فاسٹ بولر محمد آصف نے بھی بدعنوانی کے ایسے الزامات سے انکار کیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مجید نے ان سے میچ کے کچھ حصے فكس کرنے کے لیے کہا تھا مگر انہوں نے اس کی بات پوری طرح نظر انداز کر دی تھی۔

سابق پاکستانی کپتان نے عدالت میں تسلیم کیا کہ انہیں آصف اور ایک دیگر فاسٹ بولر محمد عامر کے سٹےبازوں سے تعلقات کا شک تھا۔

مظہر مجید کے بارے میں انہوں نے عدالت میں کہا، ’میں سمجھ نہیں سکا کہ وہ کس طرح کا انسان ہے. مجھے لگتا تھا کہ میں اسے بہتر سمجھتا ہوں ، مگر جس طرح کی باتیں سامنے آئی ہیں ، میں نے سنی اور دیکھی ہیں اس کے بعد لگتا ہے کہ میں نے اسے سمجھنے میں غلطی کی‘۔

بٹ کا کہنا تھا، ’میں نے ان کی بات مانی اور ان پر بھروسہ کیا۔ میں انہیں کچھ وقت سے جانتا تھا مگر میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا ایک دوسرا چہرہ بھی ہوگا اور وہ اتنا برا ہوگا‘۔

میچ فکسنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر بٹ نے عدالت کو بتایا، ’ایسا کرنا بہت ہی برا ہے، یہ کھیل کے لیے اچھا نہیں ہے، ملک کے لیے اچھا نہیں ہے اور یہ ایک آدمی کے کردار کے بارے میں بتاتا ہے‘۔

سلمان بٹ نے کہا کہ وہ کھیل کے بارے میں جتنے پرجوش ہیں اس میں وہ ایسا کبھی نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جب بڑے ہوئے تب سے ہی ملک کے لیے کھیلنا چاہتے تھے۔

بٹ نے بتایا کہ انہیں مظہر مجید نے چھبیس اگست کی رات ڈھائی ہزار ڈالر نقد دیے تھے مگر وہ جنوبی لندن کے ٹوٹنگ علاقے میں مجید کی آئسكريم کی دکان کے افتتاح کے لیے دی جانے والی رقم کا ایک حصہ تھی۔

مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

اسی بارے میں