بھارت:فارمولا ون کار ریسنگ کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption بھارت کی پہلی فارمولہ ریس دلی کے پاس نوئیڈا میں ہو رہی ہے

بھارت میں پہلے فارمولا ون کار ریسنگ مقابلے دہلی کے قریب واقع بدھ انٹرنیشنل سرکٹ میں جمعے سے شروع ہو رہے ہیں لیکن ایک کتے کے اچانک ٹریک پر پہنچ جانے کی وجہ سے پریکٹس میں رخنہ پڑا۔

یہ کالا کتا ٹریک پر ادھر ادھر بھاگتا رہا اور کافی کوشش کے بعد ہی اسے باہر نکالا جا سکا۔ اس دوران دنیا کے بہترین فارمولا ون ڈرائیور انتظار کرتے رہے۔

اس سے پہلے جمعرات کو ولیمس کے ڈرائیور روبنس باریکیلو کی پریس کانفرنس کے دوران بجلی چلی گئی تھی اور پھر ایک چمگادڑ میڈیا سینٹرمیں داخل ہوگیا تھا۔

جہاں بدھ سرکٹ قائم کیا گیا ہے یہ کافی سنسان علاقہ ہے اور اس کے قریب ہی اتر پردیش کی حکومت ایک ’نائٹ سفاری‘ قائم کرنے پر غور کررہی ہے۔

مشق کے دوران میک لیرن کے لیوئس ہیملٹن نےسب سے اچھا مظاہرہ کیا ہے۔

ہیملٹن نے تقریباً پانچ کلومیٹر کے بدھ سرکٹ کا ایک لیپ ایک منٹ چھبیس چھبیس سیکنڈ میں مکمل کیا جو عالمی چیمپئن سیباسٹین ویٹل کے ٹائم سے آدھا سیکنڈ کم ہے۔ ماکر ویبر تیسرے نمبر پر رہے۔

بدھ سرکٹ پر کافی دھول ہونے کی وجہ سے کئی گاڑیاں سرکٹ سے اتر گئیں لیکن ماہرین کے مطابق نئے ٹریک پر یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ منتظمین کے مطابق ٹریک کو ریس سے پہلے دھویا جاتا ہے لیکن آس پاس کا علاقہ ریتیلا ہونے کی وجہ سے اس پر پھر دھول جم جاتی ہے۔

بھارت کے سب سے مشہور فارمولا ون ڈرائیور نارائن کارتیکئن کا کہنا ہےکہ پریکٹس کے دوران آپ کو ٹریک کا وہ حصہ ڈھونڈنا ہوگا جس پر آپکی گاڑی کے ٹائروں کو بہتر گرفت ملے کیونکہ نئے ٹریک میں یہ مسائل سامنے آتے ہی ہیں۔

مشق کے دوران فراری ٹیم کے ڈرائیور فرنانڈو الونزو کے انجن میں خرابی پیدا ہو گئی جس کی وجہ سے وہ کورس پورا نہیں کرسکے۔

ریس کا فائنل اتوار کو ہوگا اور اس میں دنیا کے سرکردہ فارمولہ ون ڈرائیور حصہ لیں گےلیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اصل مقابلہ ریڈ بل کے وٹل اور میک لیرن کے ہیملٹن لیوئس کے درمیان ہی ہوگا کیونکہ دونوں بہت اچھے فارم میں ہیں۔

ریس میں افسانوی ڈرائیور مائیکل شوماکر بھی شامل ہوں گے جو ریٹائرمنٹ سے واپسی کے بعد دوبارہ سابقہ مقام حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بدھ سرکٹ تقریباً چار سو ملین ڈالر کی لاگت سے بنایا گیا ہے اور اس میں ایک لاکھ سے زیادہ شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ مقابلوں کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور تقریباً دو ہزار پولیس اہلکار تعینات کیےگئے ہیں۔

فارمولا ون کی ہندوستان آمد کھیلوں کے شائقین کے لیے ایک بڑی خبر ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بدھ سرکٹ میں اتنی شاندار سہولیات فراہم کی گئی ہیں کہ اس کا شمار دنیا کے بہترین ریسنگ ٹریکس میں کیا جائے گا۔

لیکن موٹر سپورٹس کے لیے گزشتہ آٹھ دس دن بہت خراب رہے ہیں کیونکہ دو مشہور ڈرائیور ڈین ویلڈن اور مارکو سائمن سیلی ریس ٹریک پر دو الگ الگ حادثات میں ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے انیس سو چورانے میں صرف چوبیس گھنٹوں کے اندر آئرٹن سینا اور رولینڈ راڈزنبرگر ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے فارمولہ ون ریسنگ کی دنیا ہی بدل گئی تھی اور ڈرائیوروں کی حفاظت کےلیے بہت سے نئے اور ٹھوس اقدامات کیے گئے تھے۔ فارمولہ ون میں اس کے بعد سے کسی حادثے میں جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

بدھ سرکٹ میں ہیلی کاپٹر ایمبولنس کا انتظام کیا گیا ہے اور مشق کے لیے اس ہیلی کاپٹر کی کئی روز سے پروازیں جاری تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت میں فارمولہ ون کے لیےلوگوں زبردست جوش پایا جاتا ہے

خود فارمولا ون کے مشہور سابق ڈرائیور فلیپے ماسا کہتے ہیں کہ ڈرائیوروں کو ہمیشہ معلوم ہوتا کہ اس کھیل میں خطرہ ہے لیکن جیتنے کی کوشش میں وہ کبھی کبھی حد سے گزر جاتے ہیں۔

نارائن کارتیکن کہتے ہیں کہ فارمولا ون کے ہندوستان آنے سے ملک میں اس کھیل کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوگا۔

’فارمولا ون موٹر سپورٹس کی سب سے دلچسپ ریس ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں ساٹھ کروڑ لوگ فارمولہ ون ریسز کو ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ صرف دو کھیل اس سے زیادہ دیکھے جاتےہیں۔سرکٹ میں جاکر جو لوگ یہ ریس دیکھیں گے وہ ہمیشہ کے لیے اس کے فین بن جائیں گے‘۔

لیکن خود کارتیکن کو اس ریس سے زیادہ امیدیں نہیں ہیں کیونکہ ان کے مطابق ان کی بنیادی کوشش یہ ہوگی کہ وہ ریس پوری کر سکیں۔

ریڈ بل اس سیزن کے لیے ٹیم کے خطاب اور سباسٹین وٹل انفرادی خطاب پر پہلے ہی قبضہ کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں