شعیب کو محب وطن پایا: انشو ڈوگرہ

انشو ڈوگرہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شعیب اختر نے اس وعدے پر مجھے کتاب لکھنے کے لئے کہا تھا کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ میں لکھوں گی: انشو ڈوگرہ

شعیب اختر کی کتاب ’کنٹروورشلی یورز‘ کی مصنفہ انشو ڈوگرہ کہتی ہیں کہ فاسٹ بولر کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ وہ اپنی کتاب میں کیا کہنا چاہتے تھے۔

انہوں نےشعیب سے صرف اتنا کہا تھا کہ انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ کتاب ان کی آواز اور زبان ہے جسے سب پڑھیں گے۔

انشو ڈوگرہ کا کرکٹ سے یہ پہلا باضابطہ رابطہ تھا کیونکہ ان کی وجۂ شہرت تاریخ ثقافت اور ورثے جیسے موضوعات پر تحقیق و تحریر ہے۔

یہ رابطہ کیوں اور کیسے ہوا اور وہ بھی شعیب اختر جیسے کرکٹر کے ساتھ جنہیں ان کے پورے کریئر میں خوائص کے بجائے نقائص سے پہچانا جاتا رہا۔ یہ اور اس جیسے کئی دوسرے سوالوں کےجواب کے لیے میں نے دہلی میں انشو ڈوگرہ سے رابطہ کیا تو ان کا پہلا جواب ہی بہت سیدھا سادہ اور واضح تھا ’میرے لیے یہ کتاب لکھنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ ’زندگی میں ایک دلچسپ موقع ملا تھا اور میرے لئے یہ ایک اچھا تجربہ رہا۔یہ ایک آسان اور سادہ سی کتاب ہے جو میں نے اپنے اور شعیب کی ایک مشترکہ دوست سدیش کے کہنے پر لکھ دی جن کا خیال تھا کہ میرا لکھنے کا انداز سادہ ہے اور مجھے یہ کتاب ضرور لکھنی چاہئے۔‘

آپ نے شعیب اختر کو کیسا پایا کے سوال پر انہوں نے اپنے اور شعیب کی عمر کے موازنے سے شروع کرتے ہوئے کہا ’میں شعیب اختر سے عمر میں بڑی ہوں۔ وہ مجھ سے بہت اچھی طرح پیش آئے۔ خوش مزاج ہیں، دوسروں ہی پر نہیں اپنے آپ پر بھی ہنستے ہیں۔ میں نے انہیں ایک محب وطن پایا جو اپنے ملک سے بہت پیار کرتا ہے۔پیار سے بات کرتا ہے میرے نزدیک وہ جنٹلمین ہیں۔‘

کتاب میں کیا ہونا چاہیے کیا نہیں کے بارے میں شعیب اختر کو کسی بات کا پابند کیا کے جواب میں انشو کہتی ہیں’نہیں! شعیب اختر نے اس وعدے پر مجھے کتاب لکھنے کے لئے کہا تھا کہ وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ میں لکھوں گی۔ میں نے کہا تھا کہ ضرور! یہ آپ کی کہانی ہے میں نے صرف یہ کہا تھا کہ یہ کتاب لوگ بہت پڑھیں گے کیونکہ یہ آپ کی آواز ہے آپ کی زبان ہے۔ اس پر وہ مطمئن تھے کیونکہ انہوں نے پہلے سے سوچ رکھا تھا کہ وہ کیا کچھ کہنا چاہتے تھے۔ انٹرویوز کے دوران وہ مجھ سے یہی کہتے تھے کہ ٹھیک ہے آپ صحیح لکھ رہی ہیں میں یہی کہنا چاہتا تھا ۔ایک ایک سطر پر بات ہوتی تھی بلکہ اس وقت مجھے مزا آرہا تھا جب وہ پنجابی اور اردو میں جملہ کہتے تھے اور میں اس کا ترجمہ کرتی تھی۔‘

انشو ڈوگرہ کے لئے یہ بات حیرانی کا باعث تھی کہ کتاب منظرعام پرآنے سے قبل ہی اس کی منفی پبلسٹی ہوگئی۔ ’ کتاب پڑھے بغیر اس پر آپ کیسے تبصرے کرسکتے ہیں مجھے یہی بات پسند نہیں آئی بلکہ مجھے ہنسی بھی آرہی تھی۔‘

انشو ڈوگرہ کا کہنا تھا کہ وہ واپس اپنی دنیا میں جارہی ہیں کیونکہ ان کی صوفیانہ کلام پر کتاب ادھوری پڑی ہوئی ہے اور انہیں یہ کتاب مکمل کرنی ہے۔

اس گفتگو کا آخری سوال یہ تھا کہ یہ کتاب تو ایک دوست کے کہنے پر لکھ دی خود کسی کرکٹر کی کتاب لکھنی پڑے تو کس کا انتخاب کریں گی؟ جواب میں انشو نے کہا ’میں اگر کسی کرکٹر کی سوانح لکھتی تو منصور علی خان پٹودی کی لیکن اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔‘

اسی بارے میں