کھلاڑیوں کے خلاف سفارشات پر عملدرآمد نہ ہوسکا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جسٹس قیوم کمیشن کی تحقیقات نو ستمبر1998 کو شروع ہوئیں اور تیس اکتوبر1999 تک جاری رہیں۔

پاکستانی کرکٹ میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کے لیے جسٹس قیوم کمیشن کی تقرری پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹیو ماجد خان کے صدر پاکستان کو تحریر کیے گئے خط کے بعد عمل میں آئی تھی۔

ماجد خان نے اس خط میں زور دیا تھا کہ ایک بااختیار عدالتی کمیشن ہی میچ فکسنگ جیسے حساس معاملے میں حقائق معلوم کرسکتا ہے جو ان کے خیال میں ایک عام طرح کی تحقیقات میں ممکن نہیں تھا۔

ماجد خان کے اس خط کی روشنی میں پاکستانی حکومت نے سنہ انیس سو چھپن کے انکوائری ایکٹ کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ایک رکنی عدالتی کمیشن کے لیے جج کی تقرری کی درخواست کی جنہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے ایک سینیئر جج جسٹس ملک محمد قیوم کا انتخاب کیا۔

تیرہ اگست سنہ انیس سو اٹھانوے کو ایک نوٹیفکیشن کےذریعے جسٹس قیوم کمیشن کی تقرری کی گئی جس کے دائرہ اختیار میں پاکستانی کرکٹ ٹیم میں میچ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات، اس میں ملوث کرکٹرز کی نشاندہی، ان کے خلاف کارروائی کی تجویز اور مستقبل میں میچ فکسنگ کے تدارک کے لیے اقدامات کی سفارشات کرنا شامل تھا۔

جسٹس قیوم کمیشن کی تحقیقات نو ستمبر انیس سو اٹھانوے کو شروع ہوئیں اور تیس اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے تک جاری رہیں اس دوران موجودہ اور سابق کرکٹرز، (جن میں آسٹریلوی کرکٹرز مارک وا اور مارک ٹیلر بھی شامل تھے) کرکٹ بورڈ کے آفیشلز، پولیس اور انتظامیہ کے افسران اور صحافی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے جبکہ کمیشن نے اپنی لیگل ٹیم کو شین وارن کا بیان لینے اور ان پر جرح کرنے آسٹریلیا بھی بھیجا جس کے بعد کمیشن نے ایک سو اننچاس صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی۔

جسٹس قیوم کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تجویز کیا تھا کہ سابق کپتان سلیم ملک میچ فکسنگ میں ملوث ہیں اور ان پر تاحیات پابندی عائد کر دی جائے۔ ان کے اثاثوں کے بارے میں مزید تحقیقات کی جائیں اور ان کے خلاف الزامات پر فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

کمیشن نے وسیم اکرم کے بارے میں کہا کہ ان کے خلاف ایک خاص سطح تک شواہد سامنے نہیں آئے لیکن جتنے بھی شواہد پیش کیے گئے انہوں نے ان کی ساکھ کے بارے میں شکوک پیدا کردیے لہذا کمیشن نے تجویز کیا کہ انہیں آئندہ کبھی بھی کپتانی نہ دی جائے۔ ان پر کڑی نظر رکھی جائے ان کے اثاثوں کی تحقیقات کی جائے۔

فاسٹ بولر عطا الرحمنٰ نے چونکہ کمیشن کے سامنے بیانات تبدیل کیے لہذا غلط بیانی پر ان پر تاحیات پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی۔

کمیشن نے لیگ سپنر مشتاق احمد کے بارے میں سفارشات دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ان کے روابط جواریوں کے ساتھ رہے تھے لہذا انہیں مستقبل میں ٹیم یا کرکٹ بورڈ میں کپتانی اور کوچنگ جیسی کوئی بھی ذمہ داری نہ سونپی جائے اور ان کی کڑی نگرانی کی جائے۔

Image caption کمیشن نے وسیم اکرم کے بارے میں کہا کہ ان کے خلاف ایک خاص سطح تک شواہد سامنے نہیں آئے۔

جسٹس قیوم کمیشن نے سلیم ملک پر دس لاکھ روپے، وسیم اکرم اور مشتاق احمد پرتین تین لاکھ روپے اور عطاء الرحمنٰ پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔

کمیشن نے عدم تعاون پر انضمام الحق، وقاریونس، سعید انور اور اکرم رضا پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

کمیشن نے اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا تھا کہ پاکستانی کرکٹرز بین الاقوامی کریئر شروع کرتے وقت اپنے تمام اثاثوں کی مکمل معلومات پاکستان کرکٹ بورڈ کو فراہم کریں اور اس کے بعد وہ سالانہ بنیاد پر اثاثوں کے بارے میں معلومات کرکٹ بورڈ کو دیتے رہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ یہ تمام تفصیلات رازداری میں رکھیں۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس ملک محمد قیوم نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے ان تمام سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کہا تھا لیکن جسٹس ملک محمد قیوم کو یہ گلہ ہی رہا کہ ان کی سفارشات پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے عملدرآمد نہ کرا سکا۔

اسی بارے میں