فیصلے سے آئی سی سی کی پابندیاں متاثر نہیں ہونگی

لورگارٹ تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عدالت کا فیصلہ انسدادِ بدعنوانی کے اس عالمی ٹریبونل کے فیصلے سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے جسے کونسل نے تشکیل دیا تھا

عالمی کرکٹ کونسل آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ نے کہا ہے عدالت کے فیصلے کا ان پابندیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو تینوں کھلاڑیوں پر پہلے ہی لگائی جا چکی ہیں۔

انگلینڈ کے سدک کراؤن کورٹ میں تین پاکستانی کھلاڑیوں پر جرم ثابت ہو جانے کے بعد جاری کیے جانے والے ایک بیان میں آئی سی سی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ’ کونسل گزشتہ چند ہفتوں سے جاری مقدمے کا بغور مشاہدہ کر رہی تھی اور اب جب کہ جیوری نے سلمان بٹ اور محمد آصف کو ان جرائم کا مرتکب قرار دے دیا ہے جن کے الزام ان پر لگائے گئے تھے جب کہ محمد عامر جو پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں‘۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’یہ فیصلہ انسدادِ بدعنوانی کے اس عالمی ٹریبونل کے فیصلے سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے جو ان تین کھلاڑیوں کے خلاف ٹریبونل نے آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی کے ضابطوں کے تحت سماعت کے بعد دیا تھا۔ جیسا کہ آپ سب کو علم ہے کہ انسدادِ بدعنوانی ضابطے کے تحت ان تین کھلاڑیوں کو بالترتیب پانچ، سات اور دس سال کے لیے ہر طرح کی کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا تھا۔ وضاحت کے لیے پھر یہ صراحت کی جا رہی ہے کہ انگلش عدالت کے فیصلے سے معطلی کے ان عرصوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس کا اطلاق پوری طرح ہو ہوگا‘۔

مسٹر کوگاٹ کا کہنا ہے کہ ’ کونسل کو اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ ان کھلاڑیوں نے صرف کھیل کے ضابطوں ہی کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ اس ملک کے فوجداری قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے جس میں وہ کھیل رہے تھے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ کونسل کے انسدادِ بدعنوانی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی بنا پر جو پابندیاں لگائی تھیں ان سے قطع نظر اب یہ دکھائی دیتا ہے کہ اس طرح کے مجرمانہ طرزِ عمل پر انتہائی سخت پابندیاں لگائی جانی چاہیں‘۔

انبہوں نے مزید کہا ہے کہ ’میں اس بارے ابھی اور کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ ابھی عدالت نے تینوں کھلاڑیوں کے لیے سزاؤں کا تعین کرنا ہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ اس فیصلے کو ہر وہ کھلاڑی ایک واضح انتباہ تصور کرے گا جو مستقبل میں کسی بھی وجہ سے ہمارے کھیلوں میں بدعنوانی کے ارتکاب کے لالچ میں ملوث ہو گا‘۔

انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ ’اس سارے عمل کے دوران ہم نے کراؤن پراسیکوشن سروس اور میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ مل کر کام کیا اور مجھے یقین ہے کہ اس سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ انسدادِ جرائم اور کھیلوں کے ادارے مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھیلوں اور عوام کے بہترین مفاد میں کام کر سکتے ہیں‘۔

آئی سی سی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’میں نے پہلے بھی کئی بار اس سلسلے میں بات کی ہے اور اب پھر اس بات کو دہراتا ہوں کہ آئی سی سی بدعنوانی کے معاملے میں ذرا سی بھی نرمی کی روادار نہیں ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے جہاں تک ہمارے اختیار میں ہو گا جب بھی ہمیں کھیل میں کسی بھی طرح کی بدعنوانی کا علم ہو گا ہم اس کی مکمل تحقیقات کریں گے اور اس پر قرار واقعی سزا دیں گے۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم کرکٹ کے کھیل کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ اور یہی ہم اس معاملے میں بھی کیا ہے‘۔

اسی بارے میں