تینوں کرکٹرز کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے

کرکٹرز تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’کہ سپاٹ فکسنگ یا جوّے میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ملوث ہونے کے باعث ان سر شرم سے جھک گئے ہیں اور ان کے گھر والے بھی اب انہیں طعنے دینے لگے ہیں‘۔

لاہور کے بعض نوجوان کرکٹرز کا کہنا ہے کہ سپاٹ فکسنگ یا جوّے میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ملوث ہونے کے باعث ان سر شرم سے جھک گئے ہیں اور ان کے گھر والے بھی اب انہیں طعنے دینے لگے ہیں۔

لاہور میں نامہ نگار علی سلمان نے ایل سی سی آئی گراؤنڈ میں کلب کرکٹ کھیلنے والے چندنوجوان سے گفتگو کی تو ان میں سے کچھ مایوس اور کچھ غصے کا شکار تھے۔

نوجوان کرکٹرز نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ پاکستان سے میچ فکسنگ ختم کرنا مشکل ہے لیکن اس کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں پر کلب کرکٹ کی سطح سے سختی کی جانی چاہیے کیونکہ انہیں کلب کرکٹ سے یہ عادت پڑ چکی ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ ’ہمارے کوچز کو شروع سے ہی ہمیں مکمل آگاہی دینی چاہیے،اس کے لیے ضروری ہی کہ کلب کی سطح ہی سے تربیت دی جائے‘۔

کلب کی سطح پر کھیلنے والے یہ چند کھلاڑی پریکٹس کے بعد گراؤنڈ میں بیٹھے کرکٹ میں میچ فکسنگ پر ہی گفتگو کرر ہے تھے جب بی بی سی کے نامہ نگار نے پوچھا کہ کیا وہ بھی شرمندگی محسوس کرتے ہیں؟

ایک کھلاڑی نے کہا کہ ’ہم لوگ بہت شرمندگی محسوس کرتے ہیں کیونکہ ایک انسان کی غلطی کرتا ہے اور بدنام پورا پاکستان ہوتا ہے اور ہم لوگوں کو ایسی حرکتیں نہیں کرنی چاہیے جس سے ملک کا بدنام ہو‘۔

ایک دوسرے کھلاڑی نے کہا کرکٹ تو کھلاڑی کی زندگی ہوتی ہے اگر ایک کھلاڑی بھی یہ حرکت کرے گا تو سب کا دل ٹوٹے گا۔انہوں نے کہا کہ اب گھروالوں کو جواب دینا مشکل ہوگیا ہے۔ کرکٹ کے میدان میں جانے لگتے ہیں تو گھر والے سو سو طرح کی باتیں کرتے ہیں کہتے کہ تم لوگوں نے کل ملک کو اسی طرح بیچنا ہے تو کرکٹ نہ ہی کھیلو تو بہتر ہے۔

کلب کرکٹرز نے کہا کہ تینوں کھلاڑیوں کو اتنی سخت سزا ملنی چاہیے کہ آئندہ کوئی کھلاڑی اس طرح کی حرکت کا سوچ بھی نہ پائے۔

ایک کھلاڑی نے کہا کہ اگر پاکستانی کرکٹرز کو اپنے ہی ملک میں سزا دے دی جاتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اس وقت کے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اعجاز بٹ چاہتے تو اپنے طور پر ان کھلاڑیوں کو سزا دے سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا نتیجہ کے طور پر تینوں کھلاڑی لندن میں جواری ثابت ہوئے اور ہمارے سر شرم سے جھک گئے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی اس غلطی کو مانیں جو انہوں نے کی ہے کیونکہ اب تو یہ ثابت ہو چکی ہے۔

’انہوں نے جو بھی کیا ہے برا کیا ہے اور اب ان کو جو بھی سزا ملے وہ اس کو قبول کریں‘۔

نوجوان کھلاڑیوں نے کہا کہ ’پیسہ زیادہ اہم نہیں ہے سب سے اہم ملک کی عزت اور وقار ہے۔ ہمارا ملک ہماری ماں ہے اور ہمیں اپنی ماں کو نہیں بیچنا چاہیے‘۔

ایک کھلاڑی نے کہا کہ ’جب مجھے میرے کوچ نے بتایا کہ ہر ٹیسٹ کرکٹر سے حلف لیا جاتا ہے اور ان پاکستانی کرکٹرز نے حلف اٹھانے کے باوجود یہ حرکت کی ہے تو یہ سن کر میں بہت ہی شرمندہ ہوا اور میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کاش انہوں نے یہ حرکت نہ کی ہوتی‘۔

اسی بارے میں