’ایک اور پاکستانی کرکٹر سپاٹ فکسنگ میں ملوث‘

مظہر مجید تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مظہر مجید نے پاکستانی کھلاڑیوں کو نو بالز کروانے کے عوض دی گئی رقم کی تفصیلات بتائیں

سپاٹ فکسنگ مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کو بتایا گیا ہے کہ سابق کپتان سلمان بٹ کے ساتھ ایک اور پاکستانی کرکٹر بھی اس معاملے میں ملوث تھا۔ تاہم عدالت میں اس کرکٹر کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

ادھر پاکستانی کرکٹرز کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے جمعرات کو ملزمان کو سزا سنانے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی قوانین کے تحت پاکستانی کرکٹرز کو سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے

سلمان بٹ کے ساتھ ایک اور پاکستانی کرکٹر کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف اس مقدمے کے ایک ملزم سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کے وکیل نے سدرک کراؤن کورٹ میں بدھ کو کارروائی کے دوران کیا۔

مظہر مجید نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اس نے نو بالز کروانے کے لیے محمد آصف کو پینسٹھ ہزار سلمان بٹ کو دس ہزار اور محمد عامر کو ڈھائی ہزار پاؤنڈ دیے تھے۔

محمد آصف اور سلمان بٹ پر منگل کو دھوکہ دہی اور غیر قانونی رقم وصول کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے تھے جبکہ محمد عامر اور مظہر مجید نے مقدمے سے قبل ہی اعترافِ جرم کر لیا تھا۔

بدھ کو سماعت کے دوران محمد عامر نے کہا کہ وہ صرف ایک میچ میں فکسنگ میں ملوث تھا اور یہ صرف ایک بار کا واقعہ تھا تاہم جج کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹ پیغامات کوئی اور ہی کہانی سناتے ہیں۔

محمد آصف اور سلمان بٹ کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ گزشتہ برس اٹھارہ سے اکیس اگست کے دوران محمد عامر اور پاکستان میں ان کے ساتھیوں کے درمیان مشتبہ ٹیکسٹ پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔

ان پیغامات کے مطابق سترہ اگست کو محمد عامر نے پاکستان میں اپنے ایک ساتھی کو اپنے بینک کی معلومات فراہم کیں اور یہ سکینڈل سامنے آنے کے بعد اٹھائیس اگست کو عامر نے اسی شخص کو دوبارہ پیغام بھیجا کہ ان کے کالز کی تفصیلات حذف کر دی جائیں۔

محمد عامر نے اوول ٹیسٹ سے قبل ایک اور پاکستانی نمبر پر بھی ایس ایم ایس بھیجا جس میں پوچھا گیا تھا کہ ’کتنا اور کیا کرنا ضروری ہے؟‘ اور پھر اگلے پیغام میں انہوں نے تصدیق کی ’پہلی تین گیندیں جیسی آپ چاہیں اور آخری دو میں آٹھ رن بنیں‘۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اوول ٹیسٹ کے تیسرے دن کی صبح محمد عامر اور مظہر مجید کے مابین بھی کالز اور ایس ایم ایس کا تبادلہ ہوا تھا۔

جج نے عامر کے وکیل کوئینز قونصلر ہنری بلیکس لینڈ کو بتایا کہ اس کی جانب سے ہاں کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے تاہم میرے خیال میں آپ مانیں گے کہ یہ کسی ایسے فرد سے برابر رابطے میں تھا جو بلا شک و شبہ اسے ہدایات دے رہا تھا۔

اس پر محمد عامر کے وکیل نے کہا کہ ابتدائی طور پر عامر نے انہیں کی جانے والی بیشتر کالز کا جواب نہیں دیا تھا۔ تاہم جسٹس کک نے محمد عامر کے اس دعوے کو رد کر دیا کہ وہ لارڈز ٹیسٹ سے قبل کسی قسم کی میچ فکسنگ میں ملوث نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے جو مواد دیکھا ہے میں اس کی وجہ سے اس معافی کی بنیاد کو تسلیم نہیں کر سکتا‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یقیناً ایسے پیغامات موجود ہیں جن سے یہ لگتا ہے کہ عامر صرف اور پہی بار اس معاملے میں لارڈز میں ہی ملوث نہیں ہوا تھا‘۔

جسٹس کک نے کہا کہ ’یہ صرف ایک بار رونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا‘۔

لندن کی عدالت نے منگل کو سپاٹ فکسنگ کیس میں سلمان بٹ اور محمد آصف کو قصوروار قرار دے کر انہیں دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔ محمد عامر جن کی عمر اس وقت اٹھارہ برس تھی پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف کر چکے ہیں۔

جیوری نے قریباً سترہ گھنٹے کے غور وخوص کے بعد متفقہ طور پر سلمان بٹ اور محمد آصف کو دھوکہ دہی کا مجرم قرار دیا جبکہ بارہ رکنی جیوری کے دس ارکان نے سلمان اور آصف کو بدعنوانی کے معاملے میں بھی مجرم ٹھہرایا۔

اس مقدمے میں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کے کہنے پر چھبیس اور ستائیس اگست سنہ دو ہزار دس کو لارڈز ٹیسٹ کے دوران پہلے سے طے شدہ وقت پر نو بالز کروائیں تھیں۔

اسی بارے میں