’کھیل میں بدعنوانی کیخلاف قانون سازی ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کھلاڑیوں نے کرکٹ کے کھیل کو رسوا کیا، پی سی بی

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے سفارش کرے گا کہ وہ کھیلوں سے بدعنوانی ختم کرنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کرے۔

کرکٹ بورڈ کے ترجمان ندیم سرور نے نامہ نگار ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی بدعنوان عناصر کا کرکٹ سے خاتمہ چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ آئی سی سی اور تمام بورڈز کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

’کھلاڑیوں کی سخت نگرانی ہوگی‘: آڈیو

لندن کی عدالت کی جانب سے پاکستان کے تین کھلاڑیوں کو سزا سنائے جانے کے اعلان کے بعد ندیم سرور کا کہنا تھا ’آج کا دن پاکستان کے لیے ایک افسوسناک دن ہے کیونکہ کسی بھی کھلاڑی کا اپنے ملک کے لیے کھیلنا فخر کی بات ہوتی ہے لیکن ان تین کھلاڑیوں نے نہ صرف کرکٹ جیسے خوبصورت کھیل کو داغدار کیا بلکہ اپنے چاہنے والوں اور پاکستانی قوم کو بے حد مایوس کیا۔‘

ان کے بقول پاکستان میں ان کے لیے کوئی ہمدردی محسوس نہیں کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کھیل سے کرپشن کو پاک کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور جو پہلے سے اقدامات کیے جارہے ہیں ان میں بہتری لائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کی پہلی ترجیح تو یہ ہے کہ موجودہ کھلاڑی اور آنے والے کھلاڑیوں کے لیے اخلاقی اور تعلیمی کورسز کا سلسلہ جاری رہے اور بین الاقوامی کرکٹ سے ہم آہنگی کے لیے کروائے جانے والے کورسز بھی جاری رہیں بلکہ ان کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ کھلاڑی غیر ضروری سرگرمیوں کا حصہ نہ بن سکیں۔

ترجمان نے کہا کہ کھلاڑیوں کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کیا جائے گا اور ایسے تمام عناصر کو کھلاڑیوں سے دور رکھنے کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ وہ بدعنوانی میں ملوث عناصر سے محفوظ رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم کا ایجنٹ بننے کے قوانین کا ازسرِ نو جائزہ لے کر انہیں نئے سرے سے مرتب کیا جائے گا اور انہیں مزید سخت بنایا جائے گا تاکہ کھلاڑیوں کو غیر منظور شدہ ایجنٹوں سے دور رکھا جاسکے۔

اسی بارے میں