ایجنٹ سمیت تینوں کھلاڑیوں کو جیل بھیج دیا گیا

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستانی کھلاڑیوں کو سات سال سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

لندن کی ایک عدالت سے قید کی سزا پانے والے تینوں پاکستان کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو ایجنٹ مظہر مجید سمیت جیل بھیج دیا گیا ہے۔

قبل ازیں بدھ کی صبح سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے سلمان بٹ کو ڈھائی سال، محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو چھ ماہ کی سزا سنائی تھی، کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کو دو سال آٹھ ماہ قید کا حکم دیا گیا تھا۔

عدالت نے تینوں کھلاڑیوں کو مقدمے پر اٹھنے والے اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ان میں سلمان بٹ کو تیس ہزار نو سو سینتیس پاؤنڈ، آصف کو آٹھ ہزار ایک سو بیس اور محمد عامر کو نو ہزار نواسی پاؤنڈ ادا کرنا ہونگے۔

جج نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مجرموں نے اچھا برتاؤ کیا تو ان کی سزا نصف ہو سکتی ہے۔

عدالت کے جج جسٹس کک نے کہا کہ اس سکینڈل سے کرکٹ میچز ہمیشہ کے لیے داغدار ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مقدمہ کا دفاع کرنے والوں سے کہا ’کہنے کی بات تھی کہ یہ کرکٹ نہیں ہے۔ آپ کے اعمال کے پیشہ ورانہ کرکٹ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ان پر بھی جو اس طرح کے جرائم میں ملوث ہیں۔

ان کے بقول ’پہلے جو ایک کھیل تھا اور جس کا تاثر اور اہمیت سب کی نظر میں تھی اب وہ ایک کاروبار ہے اور اس کے تاثر کو سب کی نظر میں جن میں نوجوان بھی شامل ہیں دھچکا لگا ہے۔ یہ نوجوان پہلے آپ کو ہیرو سمجھتے تھے۔‘

لندن کی عدالت کے جج نے کہا کہ کپتان ہونے کے ناطے سلمان بٹ پر اضافی ذمہ داری تھی لیکن انھوں نے محمد عامر کو بھی گمراہ کیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور بالر محمد آصف کو دھوکہ دہی اور بدعنوانی کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

اس مقدمے کے ایک ملزم سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کے وکیل نے بدھ کے روز سماعت کے دوران یہ انکشاف بھی کیا کہ سلمان بٹ کے ساتھ ایک اور پاکستانی کرکٹر بھی سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہے۔ تاہم اس کرکٹر کا نام نہیں بتایا گیا۔

مقدمے کے دو دیگر ملزمان محمد عامر اور ان کے ایجنٹ مظہر مجید پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف کرچکے ہیں۔

بدھ کے روز سماعت کے دوران مظہر مجید نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اس نے نو بالز کروانے کے لیے محمد آصف کو پینسٹھ ہزار سلمان بٹ کو دس ہزار اور محمد عامر کو ڈھائی ہزار پاؤنڈ دیے تھے۔

جبکہ محمد عامر نے عدالت کو بتایا کہ وہ صرف ایک میچ میں فکسنگ میں ملوث تھے اور یہ صرف ایک بار کا واقعہ تھا تاہم عدالت نے بعض ثبوتوں کی بنیاد پر ان کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

اس مقدمے میں فیصلے کا اعلان پہلے بدھ کے روز کیا جانا تھا تاہم بعد میں اعلان کیا گیا کہ فیصلہ جمعرات کو سنایا گیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق تینوں کھلاڑیوں کو اپیل کا حق ہے لیکن برطانیہ میں اپیل صرف پوائنٹس آف فلاز پر ہوتی ہے۔ اگر ان کے وکیل کورٹ آف اپیل میں یہ ثابت کر سکیں کہ جو جج کیس کی سربراہی کر رہا تھا اس نے جیوری کو مس ڈائریکٹ کیا تھا تو اس صورت میں اپیل کا حق ہے یا پھر سزا زیادہ سخت ہے تو وہ اپیل کر سکتے ہیں۔

لندن کی عدالت نے منگل کو سپاٹ فکسنگ کیس میں سلمان بٹ اور محمد آصف کو قصوروار قرار دے کر انہیں دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کے کہنے پر چھبیس اور ستائیس اگست سنہ دو ہزار دس کو لارڈز ٹیسٹ کے دوران پہلے سے طے شدہ وقت پر نو بالز کروائیں تھیں۔

اسی بارے میں