محمد آصف کا متنازعہ کیریئر

فائل فوٹو، محمد آصف تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption محمد آصف کے کرکٹ کیریر پر نظر ڈالیں تو ہمیشہ ہی ان کی کامیابیوں پر نحوست کا سایہ رہا ہے۔

کہتے ہیں خود تو ڈوبیں گے صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ لندن کی عدالت سے ایک سال قید کی سزا پانے والے پاکستان کے فاسٹ بالر محمد آصف سے ہمیشہ ہی قسمت کی دیوی ناراض رہی ہے اور اس بار تو ہاری ہوئی ان کی قسمت ان کے ملک کی ساکھ اور عزت پر ضرب بھی لگا گئی اور ان کے دو اور ساتھی کھلاڑی بھی اسی کی بھینٹ چڑھ گئے۔

انڈین پریمیر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں جب پہلی بار کھلاڑیوں کی نیلامی کی بات ہوئی تو کچھ کرکٹ حلقوں نے اسے ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں نے محمد آصف سے پوچھا کہ نیلامی تو بے جان چیزوں کی ہوتی ہے تاہم اپنے لیے نیلامی کا لفظ آپ کو برا نہیں لگا تو محمد آصف کا جواب تھا کہ نہیں، انہیں اس لفظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یعنی ان کے نزدیک پیسے کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ اس کے لیے ان کو نیلام ہونا بھی گوارا تھا۔

دو ہزار پانچ میں آسٹریلیا کے خلاف سڈنی میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں تو آصف کسی کو متاثر نہ کر پائے اور ان کی گیند کسی آسٹریلوی بلے باز کو نشانہ نہ بنا سکی۔ اُس وقت کے کرکٹ کے پنڈتوں نے تو کہہ دیا تھا کہ اس لڑکے میں کوئی دم خم نہیں لیکن کراچی میں سچن تندولکر جیسے کھلاڑی کو جھکنے پر مجبور کرنے والے اس کھلاڑی نے تمام پنڈتوں کے کہے کو غلط ثابت کر دیا۔

قسمت کی دیوی ابھی پوری طرح مہربان بھی نہ ہوئی تھی کہ آصف ڈوپنگ سکینڈل میں جکڑے گئے۔ انہیں پہلے تو ایک سال کی پابندی کی سزا ملی تاہم اپیلیٹ ٹریبونل کی مہربانی سے یہ سزا ختم ہوئی لیکن 2008 میں انڈین پریمیر لیگ کھیل کر بھارت سے واپس آتے ہوئے وہ دبئی میں منشیات رکھنے کے جرم میں پکڑے گئے اور کئی روز وہاں پابند رہنے کے بعد سفارتی کوششوں سے ان کی واپسی ہوئی۔

اس کے بعد بھی بد قسمتی نے اُن کا پیچھا نہ چھوڑا اور آئی پی ایل میں لیے گئے ڈوپ ٹیسٹ میں وہ ایک بار پھر ممنوعہ دوا کے استعمال میں مثبت پائے گئے اور اس بار معاملہ چونکہ گھر میں نہیں بلکہ دوسرے ملک میں تھا اس لیے انہیں ایک سال کی پابندی کی سزا ملی۔

اس سزا کو بھگتنے کے بعد 2009 میں ان کی ٹیم میں واپسی تو ہوئی لیکن چونکہ ان پر متحدہ عرب امارات میں داخلے پر پابندی تھی اس لیے وہ پاکستان کے لیے وہاں کھیل نہیں سکتے تھے۔

کرکٹ میں دوبارہ آئے ابھی سال بھی نہیں ہوا تھا کہ انگلینڈ میں جولائی 2010 میں ہونے والا لارڈز ٹیسٹ ان کا آخری میچ ثابت ہوا۔

اتنی بار قسمت سے دھوکا کھانے والے محمد آصف نے نو بال کراتے ہوئے ایک بار بھی نہ سوچا ہو گا کہ یہ بری قسمت پھر ان کے آڑے آئے گی اور اس بار تو ان کا سب کچھ اُجڑ جائے گا اور واپسی کے تمام راستے مقفّل ہو جائیں گے۔

آصف کرکٹ کے کھیل میں تو ہمیشہ متنازعہ رہے ہی کرکٹ کے باہر بھی ان کی ذاتی زندگی کئی طرح کے سکینڈلز میں الجھی رہی جن میں اداکاراؤں کے ساتھ سکینڈل اور اسی سلسلے میں کچھ لوگوں سے ہاتھا پائی تک کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہیں۔ فلموں اور ٹی وی کی فنکارہ وینا ملک سے ان کے مبینہ نکاح نے بھی ان سے متعلقہ خبروں کو گرم رکھا۔

وینا ملک نے ان پر ایک خطیر رقم ہتھیانے کا الزام بھی عائد کیا۔ وینا نے آصف سے قطع تعلق کے بعد کئی بار نجی طور پر اور کئی بار آن ریکارڈ ان کےغیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے انکشافات کیے۔

ایک مشہور کہاوت ہے کہ انسان اپنی قسمت خود بناتا یا بگاڑتا ہے۔ محمد آصف کے معاملے میں ان کی قسمت تو نا مہربان تھی ہی لیکن خود آصف نے بھی خود کو ہر طرح کے مسئلوں میں الجھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اسی بارے میں