’پاکستان کرکٹ بورڈ برابر کا قصوروار ہے‘

احسان مانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کرکٹ بورڈ نے پہلے تو ان کرکٹرز کی کھل کر حمایت کی لیکن پھر پیچھے ہٹ گیا:احسان مانی

سپاٹ فکسنگ مقدمے میں تین پاکستانی کرکٹرز کو قید کی سزائیں دیے جانے کے بعد یہ سوال شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ کیا اس معاملے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا کوئی کردار نہیں؟ اور کیا اس کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے یا نہیں۔

سپاٹ فکسنگ: کھلاڑیوں کو جیل بھیج دیا گیا

آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی کہتے ہیں کہ اصل انکوائری پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ان آفیشلز کے خلاف ہونی چاہیے جو اس وقت ٹیم سے منسلک تھے کیونکہ ٹیم منیجمنٹ کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ اس کی کرکٹرز کو دی گئی وارننگ کے باوجود مظہر مجید کرکٹرز سے ملتا رہا تھا۔ اس صورت میں اس نے کوئی موثر قدم کیوں نہیں اٹھایا؟‛۔

احسان مانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جب مشکوک افراد یا بک میکرز ان سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ کرکٹ بورڈ کو اس سے آگاہ نہیں کرتے اور اگر کرتے بھی ہیں تو کرکٹ بورڈ اس بارے میں آئی سی سی کو اعتماد میں نہیں لیتا جبکہ دوسرے ملکوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب بھی ان کےکرکٹرز سے انجانے لوگوں نے رابطہ کیا انہوں نے اس کی اطلاع فوراً اپنے کرکٹ بورڈ کو دے دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی سے محاذ آرائی بھی مہنگی پڑی ہے اور اگر وہ تینوں کرکٹرز کے خلاف فوری کارروائی کرتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔

ان کے مطابق ’اعجاز بٹ نے ان کرکٹرز کے خلاف خود فوری کارروائی نہ کرنے کا اعلان کر کے بہت بڑی غلطی کی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ نے پہلے تو ان کرکٹرز کی کھل کر حمایت کی لیکن پھر پیچھے ہٹ گیا‘۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم جب بھی غیر ملکی دوروں پر جاتی ہے آفیشلز کی بھی ایک بڑی تعداد اس میں شامل ہوتی ہے اور پچھلے کچھ عرصے سے ٹیم کے ساتھ سکیورٹی افسر بھی ہوتے ہیں۔ جب کرکٹ بورڈ خود یہ کہتا ہے کہ ایجنٹ کے روپ میں مشکوک لوگوں سے دور رہنے کے لیے کرکٹرز کو متنبہ کیا گیا لیکن اس کے باوجود ان کے رابطے برقرار رہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیم منیجمنٹ کیا کرتی رہی؟ سکیورٹی پر مامور لوگ کیا کرتے رہے؟۔

خالد محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ کی طرف سے کرکٹرز کو ملنے والے نوٹسز پر بھی سنجیدگی اختیار نہیں کی۔ ’ایسے نوٹسز کیوں آتے ہیں یہ سب کو پتہ ہے لیکن کرکٹ بورڈ نے اس پر ذمہ دارانہ انداز نہیں اپنایا ۔جن کرکٹرز پر شکوک و شبہات تھے انہیں ٹیم سے الگ نہیں کیا گیا‘۔

خالد محمود کہتے ہیں کہ ’جسٹس قیوم کمیشن کی سفارشات میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا گیا تھا کہ وہ کرکٹرز کے اثاثوں پر نظر رکھے لیکن پرویز مشرف کے دور میں جو بھی صاحبان کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے انہوں نے ان سفارشات پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے کرکٹرز چہیتے بن کر کھیلتے رہے اور کرکٹ بورڈ سب اچھا ہے کی پالیسی پر چلتا رہا۔ اپنی کرسیاں بچانے کی فکر رہی‘۔

سابق کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو رمیزراجہ کہتے ہیں کہ ’اگر ایک انتہائی سخت فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہوتا تو آج پاکستانی کرکٹ کو ایک صحیح سمت مل چکی ہوتی۔ افسوس کہ ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا بڑے ناموں سے مرعوب ہوگئے لیکن پاکستانی کرکٹ کو بدنامی سے بچانے کی کوشش میں بار بار اسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے‘۔

رمیز راجہ کے خیال میں کھلاڑیوں کو کرپشن کے خطرات سے بچانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے۔ ضروری تھا کہ انہیں متنبہ کیا جاتا کہ وہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہے ہیں اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی لیکن نہ ان کی اصلاح ہوئی نہ کوئی صحیح سمت متعین ہوسکی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق ڈائریکٹر کرکٹ آپریشنز سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں جہاں کرکٹرز کی چالاکی دکھائی دیتی ہے وہیں کرکٹ بورڈ کی کمزوری بھی ثابت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ سری لنکا کے دورے میں مشکوک افراد کی ٹیم کے ہوٹل میں موجودگی پر منیجر یاور سعید نے ہوٹل کی انتظامیہ سے ان افراد کو کہیں اور منتقل کرنے کا کہا تھا۔

اس واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو زیادہ سخت انداز اورحکمت عملی اپنانی چاہیے تھی لیکن سوائے آئی سی سی سے محاذ آرائی کے اور کچھ نہیں کیا گیا اور اسی منیجمنٹ کے ہوتے ہوئے سپاٹ فکسنگ کا سکینڈل سامنے آیا جو پاکستان کرکٹ بورڈ کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اسی بارے میں