بری صحبت کا برا انجام

Image caption پیسہ اس کی کبھی بھی کمزوری نہیں تھی لیکن جو لوگ اس کے ساتھ تھے ان کے زیر اثر اسے غلط کام کرنے پر مجبور کردیا گیا: کوچ آصف باجوہ

لندن کی سدرک کورٹ کے باہر نوٹس بورڈ پر اپنے نام کے آ گے’چھ ماہ ‘ لکھا دیکھ کر محمد عامر کو پتہ نہیں اسی لندن کے لارڈز گراؤنڈ کا وہ بورڈ یاد آیا ہوگا یا نہیں جس پر ان کے نام کے آگے درج تھا ’پانچ وکٹیں‘ ۔

دو عبارتیں دو مطلب ۔

آسان لفظوں میں فیم اور شیم ۔

محمد عامر کے اگلے چھ مہینوں کا فیصلہ لندن کی عدالت کرچکی لیکن اس سے پہلے ہی آئی سی سی کا ٹریبونل ان کی زندگی کے پانچ سال لے اڑا تھا۔ مطلب یہ کہ محمد عامر لندن جیل سے نیک شہری کا سرٹیفکیٹ لے کر باہر بھی آگئے تب بھی رات کی سیاہی دن کے اجالے میں تبدیل نہیں ہوگی اور کرکٹ کھیلنے کی خواہش کی تکمیل کے لئے انہیں طویل انتظار کرنا ہوگا۔

مایوسی کی اس گھڑی میں راولپنڈی کے آصف باجوہ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے ۔ وہ خود کو بھی یقین دلاتے جا رہے ہیں اور عامر کے دیہاتی پس منظر رکھنے والے سیدھے سادے گھر والوں کو بھی حوصلہ دینے میں پیچھے نہیں ہیں۔ اس کی وجہ آصف باجوہ کا محمد عامر سے خونی رشتہ نہ ہونے کے باوجود انتہائی گہرا تعلق ہے۔

آصف باجوہ کی راولپنڈی میں کرکٹ اکیڈمی ہے جس میں ہر وقت نوجوان کرکٹرز آگے بڑھنے کی جستجو میں ایک دوسرے سے بازی لیجانے کی کوشش میں دکھائی دیتے ہیں۔ کئی کرکٹرز آئے اور چلے گئے لیکن آصف باجوہ کے دل و دماغ پر محمد عامر نقش ہوگئے۔

’عامر جب اکیڈمی میں آیا تو اس کی عمر صرف گیارہ سال تھی ۔بہت ہی کم عمری اور کم عرصے میں اس نے پاکستان انڈر19 ٹیم تک رسائی حاصل کرلی اور پھر وہ سینئر ٹیم میں بھی آگیا۔‘

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ وہ پیسہ کمانے اور بہت تیزی سے امیر بننے کی خواہش رکھتاہو؟ آصف باجوہ وثوق کے ساتھ اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ’ گوکہ اس کا گھر کچا تھا اور فیملی بہت ہی غریب تھی لیکن اس نے کبھی بھی مجھ سے پیسوں کی بات نہیں کی بلکہ ہر وقت وہ پاکستانی ٹیم میں شامل کرنے کی بات کیا کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ وہ اپنی زبردست بولنگ کی وجہ سے یاد رکھے جانے والا بولر بننا چاہتا ہے۔ اس نے چھ سات سال میرے سکول میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ کرکٹ بھی کھیلی اور ہم نے بھی اس سے کوئی فیس نہیں لی کیونکہ اس کا ٹیلنٹ بتا رہا تھا کہ وہ بہت آگے جائے گا۔‘

پھر پیسوں کے لئے نوبال کرنے کی حامی بھرنا یہ تبدیلی اس میں کیسے آگئی؟

آصف باجوہ اسے غلط صحبت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں’دو ہزار نو کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد جب اس نے لاہور میں سکونت اختیار کی تو اس کے بعد اس نے جن کرکٹرز اور لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کیا اس سے ہوسکتا ہے اس کی سوچ میں تبدیلی آگئی ہو۔ پیسہ اس کی کبھی بھی کمزوری نہیں تھی لیکن جو لوگ اس کے ساتھ تھے ان کے زیراثر اسے غلط کام کرنے پر مجبور کردیا گیا۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس نے غلط کام کیا ہے لیکن اس سے یہ کام کروایا گیا ہے۔‘

تو کیا آپ نے کبھی اسے سمجھانے کی کوشش نہیں کی؟۔ آصف باجوہ کے پاس اس کا جواب اثبات میں ہے۔’جب اس کا نام سپاٹ فکسنگ میں آیا تو مجھے اندازہ تھا کہ وہ اس طرح کی حرکت کر بھی سکتا ہے میں نے اسے سمجھایا کہ جن لوگوں کے ساتھ تم ہو ان سے کنارہ کرلو میں نے اسے اس بات پر راضی کرلیا تھا کہ وہ لاہور کے بجائے پنڈی میں سکونت اختیار کرلے تاکہ اس بری صحبت سے نکل سکے۔

آصف باجوہ کو اب بھی یقین ہے کہ محمد عامر کا کریئر ختم نہیں ہوا ہے۔’ہم آئی سی سی سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپیل کرینگے کہ اس کی پانچ سال کی سزا میں کمی کردی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی اور کرکٹ دوبارہ شروع کرسکے۔‘