گلے لگانے اور دھتکارنے کا کھیل

تصویر کے کاپی رائٹ ihf
Image caption حنیف خان کے بیان سے لاعلم ہوں، آصف باجوہ

پاکستانی ہاکی ٹیم میں سینیئر کھلاڑیوں کا ’آنا جانا‘ لگا ہی رہتا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو جب بھی ضرورت پڑتی ہے وہ سینیئر کھلاڑیوں کو گلے لگانے میں دیر نہیں لگاتی لیکن جب کام ہوجائے تو یہی کھلاڑی کھٹکنے لگتے ہیں۔

گزشتہ ماہ جب پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دینے کا اعلان کیا تھا تو ان میں ریحان بٹ اور سلمان اکبر شامل نہیں تھے۔

دونوں کو نہ صرف کنٹریکٹ نہیں دیے گئے بلکہ وہ آسٹریلوی دورے کے لیے اعلان کردہ ٹیم میں بھی جگہ نہیں بنا سکے تھے ۔

اس بارے میں جب چیف سلیکٹر حنیف خان سے استفسار کیا گیا تو ان کا جواب بہت واضح تھا کہ دونوں کھلاڑیوں کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں حنیف خان ہی چیمپئنز ٹرافی کے لیے ٹیم میں گول کیپر سلمان اکبر کی شمولیت کا اعلان کر رہے تھے تو یہ کہنا کہ سلمان اکبر اور ریحان بٹ کا اب کوئی مستقبل نہیں، کیا حنیف خان کی ذاتی رائے تھی۔؟

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ کا کہنا ہے کہ وہ حنیف خان کے ایسے کسی بھی بیان سے لاعلم ہیں۔

ان کے مطابق یہ کسی کی ذاتی رائے تو ہوسکتی ہے لیکن بحیثیت ادارہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی پالیسی واضح ہے کہ جو بھی کھلاڑی کارکردگی ڈسپلن اور فٹنس کے پیمانے پر پورا اترتا ہے وہ سلیکشن کے لیے دستیاب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکبر کی اہمیت کو ہمیشہ تسلیم کیا گیا ہے جہاں تک ریحان بٹ کا تعلق ہے وہ اس وقت فارم میں نہیں ہیں کہ انہیں ٹیم میں شامل کیا جائے۔

خود سلمان اکبر اپنے مستقبل کے بارے میں بیان بازی پر خوش نہیں ہیں۔ ’میں حنیف خان کے بیان کو چیلنج نہیں کررہا ہوں اگر ایسی بات تھی تو میں اب ٹیم میں ہوں، سوال یہ ہے کہ اس وقت جو بیان دیا گیا اس کا کیا مطلب تھا‘۔

ان کےمطابق’سال ڈیڑھ سال پہلے یہ بات طے ہوچکی تھی کہ میں اہم ایونٹس کے لیے دستیاب ہوں گا کیونکہ میں نے بہت پہلے سے لیگ ہاکی کا معاہدہ کررکھا تھا۔لہذا یہ بڑی عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ طے کچھ اور ہو اور باتیں کچھ اور کی جارہی ہیں‘۔

سلمان اکبر جنہوں نےایشین گیمز میں جنوبی کوریا کے خلاف سیمی فائنل میں پنلٹی سٹروک روک کر پاکستانی ٹیم کو فائنل میں پہنچایا تھا چیمپئنز ٹرافی کو اولمپکس کی تیاری کے ضمن میں انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔

’اس ایونٹ میں صف اول کی تمام ٹیمیں حصہ لیں گی اور پاکستانی ٹیم کی کارکردگی یہ بتادے گی کہ ہمیں اولمپکس کے لیے مزید کتنی محنت کرنی ہوگی۔ اس وقت پاکستانی ٹیم اچھے کھیل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور بڑی ٹیموں کے خلاف اس کی کارکردگی میں مستقل مزاجی دکھائی دیتی ہے۔چیمپئنز ٹرافی میں اچھی پرفارمنس یقیناً اس کے اعتماد میں اضافہ کرے گی‘۔

سلمان اکبر پاکستانی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے لیکن ریحان بٹ بدستور گڈ بک میں نہیں ہیں۔

کچھ حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ ریحان بٹ یورپی دورے میں ڈسپلن کی خلاف ورزی کے مبینہ واقعے کے بعد عتاب کا شکار ہیں لیکن ریحان بٹ اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آصف باجوہ اور خواجہ جنید کے بیانات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ میرے ٹیم سے باہر ہونے کا تعلق ڈسپلن سے نہیں ہے۔ میں فٹ ہوں اور ابھی دو تین سال کھیل سکتا ہوں۔

سینیئر کھلاڑیوں کی جب ضرورت پڑتی ہے انہیں شامل کرلیا جاتا ہے جیسا کہ سلمان اکبر کو کیا گیا ہے۔ فیڈریشن کو چاہیے کہ اگر کسی کھلاڑی کو رخصت کرنا ہے تو اسے عزت واحترام سے کرے تاکہ اسے احساس رہے کہ اس نے ملک کی خدمت کی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سینیئر کھلاڑیوں کے بارے میں پالیسی اتنی غیر واضح کیوں ہے؟

سابق اولمپئن شہناز شیخ کے خیال میں یہ فیڈریشن کا بچکانہ پن ہے’جب سینیئر کھلاڑیوں کو رخصت کرنے کا وقت تھا اس وقت ان کی جگہ نئے کھلاڑی سامنے نہیں لائے گئے اور جب ان کھلاڑیوں کی ضرورت تھی انہیں باہر کردیا گیا۔فیڈریشن نئے ٹیلنٹ کے بارے میں بلند بانگ دعوے نہ کرے اور حقیقت تسلیم کرے کہ سینئر کھلاڑی اس کی مجبوری ہیں۔‘

اسی بارے میں