’جیت نے شائقین کا اعتبار قائم کر دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ جیت اس لیے معنی رکھتی ہے کہ پاکستان نے کافی عرصے بعد اپنے سے اوپر کی رینکنگ کی ٹیم کو ہرایا:رمیز راجہ

سری لنکا کی لنکا ڈھانے کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کی منزل اب بنگلہ دیش ہے جس کے بعد وہ عالمی نمبر ایک انگلینڈ کی شکل میں سخت امتحان کا سامنا کرنے کے لیے پھر متحدہ عرب امارات میں اپنے’ہوم گراؤنڈ‘ پر موجود ہوگی۔

پاکستانی ٹیم نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ایک صفر سے جیتی اور پھر ون ڈے سیریز چار ایک سے اپنے نام کی جو ون ڈے سیریز میں اس کی مسلسل پانچویں جیت ہے۔

اس کامیابی کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم کی ون ڈے عالمی رینکنگ پانچ ہوگئی ہے جو مئی دو ہزار نو کے بعد سے اس کی سب سے اچھی کارکردگی ہے۔

مصباح الحق ون ڈے کی کپتانی ملنے کے بعد ٹیم کو ایک کے بعد ایک کامیابی سے ہمکنار کر رہے ہیں اور وہ دس میں سے نو میچوں میں کامیاب رہے ہیں۔

پاکستان کے دو سابق کپتان رمیز راجہ اور وقاریونس نے پاکستان سری لنکا سیریز پر رواں تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو بہت قریب سے دیکھا اور دونوں کی متفقہ رائے یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

رمیز راجہ کاکہنا ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ سری لنکن ٹیم کی فارم اور فٹنس کیسی بھی ہو پاکستانی ٹیم کے لیے یہ جیت اس لیے معنی رکھتی ہے کہ اس نے کافی عرصے بعد اپنے سے اوپر کی رینکنگ کی ٹیم کو ہرایا۔ اس سے قبل دو ہزار پانچ میں اس نے انگلینڈ کو شکست دی تھی۔

رمیز راجہ کے خیال میں اس کارکردگی کے نتیجے میں شائقین کا اس ٹیم پر اعتبار قائم ہوا ہے۔ اس ٹیم میں مستقل مزاجی دیکھنے کو ملی ہے اور نئے ٹیلنٹ نے بھی اپنی جھلک دکھائی ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ جو گلے شکوے پاکستانی ٹیم میں نظر آتے تھے وہ دور ہوتے دکھائی دیے ہیں۔

سری لنکا کی مایوس کن کارکردگی کا تجزیہ کرتے ہوئے رمیز راجہ کہتے ہیں کہ مرلی دھرن کے جانے کے بعد ان کی بولنگ متاثر ہوئی ہے۔ بیٹنگ اس ٹیم کو سہارا دیتی تھی وہ بھی ناکام رہی جس کے سبب اس پر بہت زیادہ دباؤ پڑا۔ مہیلا جے وردھنے اور کپتان تلکارتنے دلشان کا آؤٹ آف فارم ہونا بھی سری لنکا کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنا۔

رمیز راجہ نے تسلیم کیا کہ مصباح الحق نے اپنی محتاط حکمت عملی کے سبب جیت کے چند اچھے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ پاکستانی کرکٹ اور کرکٹرز کا بھنور میں پھنسنا رہا ہے جس کے سبب مصباح الحق کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے پڑے ہیں۔

ان کے مطابق انہیں اپنے وسائل کو مجتمع کرنا پڑا ہے اور ٹیم کو وہ جیت کی راہ پر لے آئے ہیں ان کی کپتانی میں نکھار آیا ہے لیکن انہیں جارحانہ حکمت عملی بھی اختیار کرنی پڑے گی۔

رمیز راجہ پاکستانی بولنگ کے زبردست معترف ہیں خاص کر وہ سعید اجمل، عبدالرحمان اور محمد حفیظ کے تکونی سپن اٹیک کو بنگلہ دیش اور پھر انگلینڈ کے خلاف ایک موثر ہتھیار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

وقاریونس کا بھی یہی خیال ہے کہ انگلینڈ کے خلاف چونکہ سیریز متحدہ عرب امارات میں ہوگی اور پاکستانی ٹیم ان وکٹوں پر کھیلنے کی عادی ہوچکی ہے۔یہاں کے موسم کا اسے اچھی طرح اندازہ ہے۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی ٹیم کو اپنی مستقل مزاجی برقرار رکھتے ہوئے بھاری فرق سے بنگلہ دیش کو ہرانا ہوگا۔ اس وقت پاکستانی ٹیم بہت اچھا کھیل رہی ہے خاص کر بولنگ جیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ شاہد آفریدی اور سعید اجمل کی سپن بولنگ بہت موثر رہی ہے۔ سعید اجمل اس وقت اپنے عروج پر ہیں اور اگر کسی سپنر کو منتخب کرنے کی بات ہو تو سب انہی کا نام لیں گے‘۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں سعید اجمل اور گریم سوان کے درمیان اچھا مقابلہ ہوگا تاہم سعید اجمل کو اپنی موثر گیند’ دوسرا‘ کے سبب سوان پر برتری حاصل ہے۔

وقاریونس کے خیال میں سری لنکا کی ٹیم تجربات سے گزر رہی ہے اور اسے صحیح شکل میں آنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ کسی بھی ٹیم سے جب بڑے کھلاڑی جاتے ہیں اسے سنبھلنے میں وقت لگتا ہے اور سری لنکا کو بھی اس وقت انہی مسائل کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں