ڈوپنگ:سات بھارت ایتھلیٹس پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دولتِ مشترکہ اور ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والی بھارتی ایتھلیٹس پر بھی پابندی لگی ہے

بھارت کی قومی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے ممنوعہ ادویات کے استعمال کا الزام ثابت ہونے پر ایک مرد ایتھلیٹ پر دو سال جبکہ چھ خواتین ایتھلیٹس پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔

خواتین ایتھلیٹس پر پابندی کا فیصلہ جمعہ کے دن جبکہ لانگ جمپ مقابلوں میں حصہ لینے والے ہری کرشن مرلی دھرن پر پابندی لگانے کا اعلان جمعہ کو رات گئے کیا گیا۔

پابندی کا سامنا کرنے والی خواتین ایتھلیٹس میں مندیپ کور، سنی ہوزے، اشونی اکنجی، جوانا مرمو، پریانکا پوار اور ٹیانا میری ٹامس شامل ہیں۔

ان خواتین ایتھلیٹس میں سے تین مندیپ کور، سنی ہوزے اور اشونی اکنجی سنہ دو ہزار دس کے دولتِ مشترکہ اور ایشیائی کھیلوں میں چار ضرب چار سو میٹر ریلے ریس میں طلائی تمغہ جیتنے والی بھارتی ٹیم کی ارکان تھیں۔

ان کھلاڑیوں کو جولائی دو ہزار گیارہ میں ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔ ان ڈوپ ٹیسٹس کے بعد بھارتی ایتھلیٹکس ٹیم کے یوکرائن سے تعلق رکھنے والے کوچ یوری اوگروڈنک کو بھی برخاست کر دیا گیا تھا۔

بھارتی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ پابندی کا اطلاق کھلاڑیوں کی معطلی سے آغاز سے ہوگا۔

ناڈا پینل کے سربراہ دنیش دیال نے بتایا ہے کہ سزا کی مدت کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو جان بوجھ کر ممنوعہ دوا لینے کا مجرم نہیں پایا گیا ہے۔

پابندی کا سامنا کرنے والے تمام ایتھلیٹ فیصلے کے خلاف ناڈا میں اپیل کر سکتے ہیں تاہم ان کے وکلاء نے کہا ہے کہ اپیل کا فیصلہ کرنے سے پہلے ناڈا کے فیصلہ کا مطالعہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں