’وہاب کو آئی سی سی نے کلیئرنس دی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئی سی سی سے یہ یقین کرلینے کے بعد کہ وہاب اس تنازعے میں ملوث نہیں ان کی ٹیم میں واپسی عمل میں آئی: ذکاء اشرف

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکاء اشرف نے کہا ہے کہ فاسٹ بولر وہاب ریاض کو آئی سی سی کی کلیئرنس ملنے کے بعد ہی پاکستانی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وہاب ریاض کی ٹیم سے دوری اور واپسی کے بارے میں ذرائع ابلاغ متضاد خبریں دیتے آئے ہیں ۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذ کا اشرف نے متحدہ عرب امارات سے بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں کہا کہ سپاٹ فکسنگ کیس کے دوران یہ خدشہ تھا کہ وہاب ریاض کا تعلق بھی اس معاملے سے نہ ہو لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے ان کی کلیئرنس مانگی تھی کہ وہ وہاب ریاض کو انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کرنا چاہتا ہے جس پر آئی سی سی نے پی سی بی کو واضح طور پر بتا دیا کہ اس کے پاس وہاب ریاض کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔

ذکا اشرف نے کہا کہ آئی سی سی کی طرف سے مثبت جواب ملنے کے بعد وہاب ریاض کا معاملہ سلیکٹرز کے حوالے کر دیا گیا کہ اگر وہ ان کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تو انہیں ٹیم میں منتخب کرلیں۔

اس سوال پر کہ جب آئی سی سی کے پاس وہاب ریاض کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا تو انہیں سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں کیوں نہیں کھلایا گیا؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ حفظ ماتقدم کے طور پر انہیں نہیں کھلایا گیا تھا کیونکہ خدشہ تھا کہ کہیں ان کا نام بھی سپاٹ فکسنگ میں ملوث نہ ہو جیسا کہ یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ ایک فوٹیج میں وہ جیکٹ میں نوٹ رکھتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے لیکن آئی سی سی سے یہ یقین کرلینے کے بعد کہ وہ اس تنازعے میں ملوث نہیں ان کی ٹیم میں واپسی عمل میں آئی۔

یاد رہے کہ سپاٹ فکسنگ کیس کے دوران مظہر مجید نے محمد عامر سلمان بٹ اور محمد آصف کے علاوہ بھی چند دوسرے کرکٹرز سے اپنا مبینہ تعلق ظاہر کیا تھا جن میں انہوں نے وہاب ریاض کا بھی نام لیا تھا۔

نیوز آف دی ورلڈ نے سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی جو ویڈیو جاری کی تھیں ان میں سے ایک فوٹیج میں وہاب ریاض اپنے کوٹ کی جیب میں نوٹ رکھتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

آئی سی سی ٹریبونل کے سامنے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق سکیورٹی افسر میجر ( ریٹائرڈ ) نجم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ٹیم کے منیجر یاور سعید کی تنبیہ نظر انداز کرتے ہوئے وہاب ریاض نے اپنے ہوٹل کے کمرے میں مظہر مجید کے بھائی اظہر مجید کو بلایا تھا اور اس موقع پر کامران اکمل اور سلمان بٹ بھی موجود تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال پاکستانی ٹیم کے انگلینڈ کے دورے میں جوناتھن ٹراٹ اور وہاب ریاض کی نیٹ پریکٹس کے دوران تلخ کلامی ہوئی تھی اور ٹراٹ نے وہاب کا گلا پکڑتے ہوئے ان پر سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا جس پر انگلینڈ کے بیٹنگ کوچ گراہم گوچ کو مداخلت کرتے ہوئے دونوں کو الگ کرنا پڑا تھا۔

وہاب ریاض سری لنکا کےخلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے لیکن کسی میچ میں نہیں کھیلے جس کے بعد انہیں بنگلہ دیش کے دورے میں بھی شامل نہیں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں