سپورٹس: سال دو ہزار گیارہ میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپاٹ فکسنگ سکینڈل نے کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا

سنہ دو ہزار گیارہ میں کھیلوں کی دنیا میں سب سے بڑی خبر سپاٹ فکسنگ کے الزام میں تین پاکستانی کرکٹرز کو ملنے والی قید کی سزائیں تھی۔

کرکٹ کے میدان میں طاقت کا توازن انگلینڈ کی طرف جھک گیا جس نے ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اس آتش فشاں میں پہلے آسٹریلوی ارمان راکھ ہوئے اور پھر مضبوط بھارتی ستون بھی ڈھیر ہوگئے۔

بھارت اٹھائیس سال بعد دوبارہ کرکٹ کی دنیا کا چیمپئن بنا۔

سری لنکا کے شہرہ آفاق مرلی دھرن نے ورلڈ کپ فائنل کے ساتھ ہی بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہا۔

بھارت کے وریندر سہواگ ون ڈے کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے والے بلے باز بنے۔

آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہارپر سے بھارتی ایسے ناراض ہوئے کہ آئی سی سی بھی انہیں گھر بھیجنے پر مجبور ہوگئی۔

آئی سی سی نے بھارت ہی کے دباؤ میں آ کر ڈی آر ایس کے معاملے پر بھی ہتھیار ڈال دیئے اور امپائرنگ ٹیکنالوجی کی لازمی حیثیت کے اپنے فیصلے کو چند ماہ میں بدل کر اختیاری قرار دے دیا۔

امپائرنگ کی اس بھیڑ چال میں پاکستان کے علیم ڈار کے اعتماد کو نہ میدان میں شور مچاتی اپیلیں متزلزل کرسکیں اور نہ ہی ٹیکنالوجی ان کی صحیح فیصلہ دینے کی صلاحیت کو چیلنج کرسکی اور وہ مسلسل تیسرے سال آئی سی سی کے بہترین امپائر ایوارڈ کے حقدار ٹھہرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption علیم ڈار مسلسل تیسرے سال آئی سی سی کے بہترین امپائر ایوارڈ کے حقدار ٹھہرے

ہاکی میں آسٹریلوی برتری کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا جس نے مسلسل چوتھے سال چیمپئنز ٹرافی جیت کر نئی تاریخ رقم کی۔

آسٹریلوی کھلاڑی جیمی ڈائر سال کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

پاکستانی ٹیم ہاکی میں مایوس کن کارکردگی کے سبب آٹھ ٹیموں میں ساتویں نمبر پر آئی۔

ٹینس کورٹ میں سارا سال یہی اعلان سننے کو ملتا رہا ۔

گیم، سیٹ، میچ ، نواک جاکووچ

جاکووچ نے آسٹریلین اوپن، ومبلڈن اور یوایس اوپن کے ٹائٹلز اپنے نام کیے اور سال کا اختتام عالمی نمبر ایک اور عالمی چیمپئن پر کیا۔

سب سے زیادہ سولہ گرینڈ سلم ٹائٹلز جیتنے والے فیڈرر اپنے پسندیدہ مقابلے ومبلڈن سے خالی ہاتھ لوٹے البتہ سال کے آخری ماسٹرز ٹورنامنٹ ضرور جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

چاروں گرینڈ سلم مقابلوں میں چار الگ الگ خواتین فاتح بن کر سامنے آئیں۔

کم کلائسٹرز نے آسٹریلین اوپن جیتی، لی نا فرنچ اوپن چیمپئن بنیں، ومبلڈن کا تاج پیٹرا کے وی ٹووا کے سر سجا اور سمانتھا اسٹوسر نے یوایس اوپن میں کامیابی حاصل کی۔

ایتھلیٹکس میں یوسین بولٹ کا وقت سے پہلے دوڑنا مہنگا پڑا اور وہ عالمی چیمپئن شپ میں ڈس کوالیفائی ہو کر سو میٹرز میں عالمی اعزاز کے دفاع سے محروم ہوگئے۔

فیفا کرپشن کے سنگین نوعیت کے الزامات کے نتیجے میں ایک ایسی فیڈریشن کے طورپر سامنے آئی جس پر سب کا اعتبار اب اٹھ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جاکووچ نے سنہ دو ہزار گیارہ میں آسٹریلین اوپن، ومبلڈن اور یو ایس اوپن جیتا

فیفا کے صدارتی امیدوار محمد بن حمام پر ووٹ خریدنے کے الزام میں تاحیات پابندی عائد کردی گئی لیکن صدارت پر براجمان سیپ بلاٹر پر بھی انگلیاں اٹھتی رہیں اور سارا سال وہ اپنا دفاع کرتے ہوئے گزارگئے۔

وین رونی کا لال پیلا غصہ انہیں لال کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجے جانے کا سبب بنا لیکن کھیل کے اعتبار سے وہ اتنے ہی مؤثر ثابت ہوئے جتنے کرسٹیانو رونالڈو اور لائنل میسی۔

سائیکلنگ کی دنیا میں برطانوی مارک کیونڈش نے اپنی برتری ثابت کی۔

انگلینڈ کے نک میتھیو، جان شیر خان کے بعد عالمی سکواش ٹائٹل کا کامیاب دفاع کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے ۔

فارمولا ون کی دنیا سے سبسٹیئن ویٹل کی جیت کی خبریں سننے کو ملتی رہیں۔

جرمن ڈرائیور نے گیارہ ریسز جیت کر مسسلسل دوسرے سال عالمی چیمپئن شپ اپنے نام کی۔

چین نے عالمی ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں کلین سوئپ کرتے ہوئے پانچوں ایونٹس میں طلائی تمغے جیتے بلکہ ان فائنلز میں ہارنے والے کھلاڑیوں کا تعلق بھی چین سے تھا۔

دو ہزار گیارہ میں کئی جانے پہچانے چہرے اور بڑے نام اس دنیا سے رخصت ہوئے ان میں پاکستان کے معمر ترین ٹیسٹ کرکٹر اسلم کھوکر، سابق بھارتی کپتان منصور علی خان پٹودی، باسل ڈی اولیورا، گراہم ڈلی، ٹریور بیلی، فریڈ ٹٹمس، کرکٹ رائٹرز پیٹر روبک اور ٹریور چیسٹرفیلڈ کے علاوہ ہاکی اولمپئن منیر ڈارشامل ہیں لیکن ان میں سب سے قابلِ ذکر نام ریٹائرڈ ائرمارشل نورخان کا ہے۔

اسی بارے میں